کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: لونڈی کی آزادی کو اس کا مہر قرار دینے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَفْخَرْنَ عَلَيَّ ، يَقُلْنَ : لَمْ يَتَزَوَّجْكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّمَا أَنْتِ مِلْكُ يَمِينٍ ! فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ أُعْظِمْ صَدَاقَكِ ؟ أَلَمْ أُعْتِقْ أَرْبَعِينَ مِنْ قَوْمِكِ ؟ " .
ترجمہ
سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کی (دیگر) ازواجِ مطہرات مجھ پر فخر جتاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ سے باقاعدہ نکاح نہیں فرمایا بلکہ آپ تو محض لونڈی ہیں! تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں نے تمہارا مہر عظیم نہیں رکھا؟ اور کیا میں نے تمہاری قوم کے چالیس افراد کو (تمہاری خاطر) آزاد نہیں کیا؟“
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، ثَنَا هَاشِمٌ الْكُوفِيُّ ، ثَنَا كِنَانَةُ يَعْنِي مَوْلَى صَفِيَّةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا ، أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا " .
( 62 ) وَسَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي الْمَنَاقِبِ حَدِيثُ رَزِينَةَ مَوْلَاتِهَا بِمَا يُخَالِفُ ذَلِكَ .
( 62 ) وَسَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي الْمَنَاقِبِ حَدِيثُ رَزِينَةَ مَوْلَاتِهَا بِمَا يُخَالِفُ ذَلِكَ .
ترجمہ
سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ ﷺ نے ان کی آزادی ہی کو ان کا حقِ مہر قرار دیا تھا، یعنی ان کی اپنی ذات ہی انہیں بطور مہر عطا فرما دی تھی۔“ ان شاء اللہ تعالیٰ مناقب کے باب میں ان کی آزاد کردہ لونڈی سیدہ رزینہ رضی اللہ عنہا کی ایک ایسی حدیث آئے گی جو (ظاہری طور پر) اس کے برعکس بیان کی گئی ہے۔