المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النكاح— نکاح کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مِنْ جعل العتق صداقا باب: لونڈی کی آزادی کو اس کا مہر قرار دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1572
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ أَزْوَاجَكَ يَفْخَرْنَ عَلَيَّ ، يَقُلْنَ : لَمْ يَتَزَوَّجْكِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِنَّمَا أَنْتِ مِلْكُ يَمِينٍ ! فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ أُعْظِمْ صَدَاقَكِ ؟ أَلَمْ أُعْتِقْ أَرْبَعِينَ مِنْ قَوْمِكِ ؟ " .ترجمہ
سیدہ جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کی (دیگر) ازواجِ مطہرات مجھ پر فخر جتاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ سے باقاعدہ نکاح نہیں فرمایا بلکہ آپ تو محض لونڈی ہیں! تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں نے تمہارا مہر عظیم نہیں رکھا؟ اور کیا میں نے تمہاری قوم کے چالیس افراد کو (تمہاری خاطر) آزاد نہیں کیا؟“