الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ - يَعْنِي الطَّبَّاعَ - ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ، قَالَ : إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ لِعُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَعْطَى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجَدَّ سُدُسَ الْمَالِ مَعَ الْوَلَدِ الذَّكَرِ ، وَمَعَ الْأَخِ الْوَاحِدِ النِّصْفَ ، وَمَعَ الِاثْنَيْنِ فَصَاعِدًا الثُّلُثَ ، وَإِذَا لَمْ يَكُنْ وَارِثٌ غَيْرُهُ فَأَعْطَاهُ الْمَالَ كُلَّهُ .
ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان فرمایا کہ ”رسول اللہ ﷺ نے نرینہ اولاد کی موجودگی میں دادا کو ترکے کا چھٹا حصہ عطا فرمایا، اور ایک بھائی کی موجودگی میں اسے نصف، اور دو یا اس سے زائد بھائیوں کی صورت میں ایک تہائی حصہ عطا فرمایا، اور اگر میت کا دادا کے سوا کوئی اور وارث نہ ہوتا تو آپ ﷺ اسے پورا مال عطا فرما دیتے تھے۔“
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ : كُنَّا نُوَرِّثُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي الْجَدَّ .
1533 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
1533 \ 3 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، ثَنَا قَبِيصَةُ . قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَأَحْسَبُ أَنَّ قَبِيصَةَ أَخْطَأَ فِي لَفْظِهِ ، وَإِنَّمَا كَانَ عِنْدَهُ : كُنَّا نُؤَدِّيهِ - يَعْنِي الْفِطْرَ - وَلَمْ يُتَابَعْ قَبِيصَةُ عَلَى هَذَا .
1533 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
1533 \ 3 - وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ ، ثَنَا قَبِيصَةُ . قَالَ الْبَزَّارُ : لَا نَعْلَمُهُ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَأَحْسَبُ أَنَّ قَبِيصَةَ أَخْطَأَ فِي لَفْظِهِ ، وَإِنَّمَا كَانَ عِنْدَهُ : كُنَّا نُؤَدِّيهِ - يَعْنِي الْفِطْرَ - وَلَمْ يُتَابَعْ قَبِيصَةُ عَلَى هَذَا .
ترجمہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں اسے (یعنی دادا کو) وارث بناتے تھے۔“ امام بزار فرماتے ہیں کہ ہمیں ان الفاظ کے ساتھ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی یہ روایت صرف اسی طریق سے معلوم ہے، اور میرا گمان ہے کہ راوی قبیصہ سے ان الفاظ کی ادائیگی میں خطا ہوئی ہے، کیونکہ درحقیقت ان کے پاس یہ الفاظ: ”ہم اسے (یعنی صدقہ فطر کو) ادا کیا کرتے تھے“ تھے، اور ان مخصوص الفاظ کی روایت میں قبیصہ کی کسی اور راوی نے متابعت نہیں کی ہے۔