المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ميراث الجد باب: دادا کی وراثت کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 1532
الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ - يَعْنِي الطَّبَّاعَ - ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ، قَالَ : إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - قَالَ لِعُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : أَعْطَى رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجَدَّ سُدُسَ الْمَالِ مَعَ الْوَلَدِ الذَّكَرِ ، وَمَعَ الْأَخِ الْوَاحِدِ النِّصْفَ ، وَمَعَ الِاثْنَيْنِ فَصَاعِدًا الثُّلُثَ ، وَإِذَا لَمْ يَكُنْ وَارِثٌ غَيْرُهُ فَأَعْطَاهُ الْمَالَ كُلَّهُ .ترجمہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان فرمایا کہ ”رسول اللہ ﷺ نے نرینہ اولاد کی موجودگی میں دادا کو ترکے کا چھٹا حصہ عطا فرمایا، اور ایک بھائی کی موجودگی میں اسے نصف، اور دو یا اس سے زائد بھائیوں کی صورت میں ایک تہائی حصہ عطا فرمایا، اور اگر میت کا دادا کے سوا کوئی اور وارث نہ ہوتا تو آپ ﷺ اسے پورا مال عطا فرما دیتے تھے۔“