المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الوصايا— وصیتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ ابن أخت القوم ومولاهم وحليفهم منهم باب: کسی قوم کے بھانجے، آزاد کردہ غلام اور حلیف کے اسی قوم میں شمار ہونے کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، ثَنَا كَثِيرٌ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ - حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : أَدْخِلُوا عَلَيَّ النَّاسَ ، وَلَا تُدْخِلُوا إِلَّا قُرَيْشًا .
فَدَخَلُوا يَتَسَلَّلُونَ حَتَّى امْتَلَأَ الْبَيْتُ ، فَقَالَ : هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ لَيْسَ مِنْكُمْ ؟ فَقَالُوا : ابْنُ الْأُخْتِ ، وَالْمَوْلَى ، وَالْحَلِيفُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ابْنُ الْأُخْتِ مِنْهُمْ ، وَحَلِيفُهُمْ مِنْهُمْ ، وَمَوْلَاهُمْ مِنْهُمْ .سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو میرے پاس آنے کی اجازت دو اور (دیکھو!) قریش کے سوا کسی کو داخل نہ کرنا۔“ چنانچہ وہ لوگ ایک ایک کر کے خاموشی سے داخل ہوئے یہاں تک کہ گھر بھر گیا، تب آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا شخص موجود ہے جو تم میں سے (یعنی خالص قریشی) نہیں ہے؟“ انہوں نے عرض کی: (جی ہاں!) ایک بھانجا، ایک آزاد کردہ غلام اور ایک حلیف (شریکِ معاہدہ)، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی قوم کا بھانجا انہی میں شمار ہوتا ہے، ان کا حلیف بھی انہی میں سے ہے اور ان کا آزاد کردہ غلام بھی انہی میں سے (محسوب ہوتا) ہے۔“