کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: مشتبہ امور سے بچنے کا بیان۔
❮
❯
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ الْأَنْصَارِيُّ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ وَغَيْرِهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : الْحَلَالُ بَيِّنٌ ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ ، فَمَنْ تَوَقَّاهُنَّ كَانَ أَتْقَى لِدِينِهِ ، وَمَنْ وَاقَعَهُنَّ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ الْكَبَائِرَ ، كَالْمُرْتَعِي إِلَى جَانِبِ الْحِمَى أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَهُ ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، وَحِمَى اللهِ تَعَالَى حُدُودُهُ .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ ، لَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
1420 \ 2 - وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - نَحْوَهُ .
ترجمہ
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حلال بالکل واضح ہے اور حرام بھی بالکل واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں؛ جس نے مشتبہات سے پرہیز کیا وہ اپنے دین کی حفاظت کے اعتبار سے زیادہ متقی ہوا، اور جو ان میں پڑ گیا وہ عنقریب کبیرہ گناہوں میں جا پڑے گا؛ جیسے چرواہا ممنوعہ چراگاہ کے کنارے چراتا ہے تو قریب ہے کہ اس میں جا پڑے۔ آگاہ رہو! ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ اس کی حدود یعنی ممنوعہ امور ہیں۔“ وضاحت: یہ سند ضعیف ہے، البتہ صحیح بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کا شاہد ہے۔ ابو یعلیٰ نے بھی اسے اسی کے مانند روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1420
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ ، لَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - . »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 1653، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 1420 / 2، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1735»
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى سَعْدٍ ، قَالَ : جِئْتُ بِاللَّيْلِ أَنَا وَسَعْدٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَى بُسْتَانٍ ذِي نَخْلٍ ، فَطَلَبْنَا صَاحِبَ الْبُسْتَانِ فَلَمْ نَجِدْهُ ، فَقَالَ لِي سَعْدٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنْ سَرَّكَ أَنْ تَكُونَ مُسْلِمًا حَقًّا ، فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا . قَالَ : فَظَلَّيْنَا جَائِعَيْنِ .
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبد الرحمن سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: میں اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ رات کے وقت کھجوروں کے ایک باغ میں گئے، ہم نے باغ کے مالک کو تلاش کیا لیکن وہ ہمیں نہ ملا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”اگر تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تم پکے اور سچے مسلمان بنو، تو اس (باغ) میں سے کچھ بھی نہ کھانا“، راوی کہتے ہیں: چنانچہ ہم نے بھوکے رہ کر رات گزاری۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب البيوع / حدیث: 1421
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 19708، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 20694، وأخرجه شرح معاني الآثار للطحاوي برقم: 6644، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 2827»