المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اجتناب الشبهات باب: مشتبہ امور سے بچنے کا بیان۔
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ الْأَنْصَارِيُّ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدَةَ وَغَيْرِهِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - عَنْ رَسُولِ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : الْحَلَالُ بَيِّنٌ ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ ، وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ ، فَمَنْ تَوَقَّاهُنَّ كَانَ أَتْقَى لِدِينِهِ ، وَمَنْ وَاقَعَهُنَّ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ الْكَبَائِرَ ، كَالْمُرْتَعِي إِلَى جَانِبِ الْحِمَى أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَهُ ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى ، وَحِمَى اللهِ تَعَالَى حُدُودُهُ .
هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ ، لَهُ شَاهِدٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - .
1420 \ 2 - وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - نَحْوَهُ .سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حلال بالکل واضح ہے اور حرام بھی بالکل واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں؛ جس نے مشتبہات سے پرہیز کیا وہ اپنے دین کی حفاظت کے اعتبار سے زیادہ متقی ہوا، اور جو ان میں پڑ گیا وہ عنقریب کبیرہ گناہوں میں جا پڑے گا؛ جیسے چرواہا ممنوعہ چراگاہ کے کنارے چراتا ہے تو قریب ہے کہ اس میں جا پڑے۔ آگاہ رہو! ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ اس کی حدود یعنی ممنوعہ امور ہیں۔“ وضاحت: یہ سند ضعیف ہے، البتہ صحیح بخاری و مسلم میں سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث اس کا شاہد ہے۔ ابو یعلیٰ نے بھی اسے اسی کے مانند روایت کیا ہے۔