المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ اجتناب الشبهات باب: مشتبہ امور سے بچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1421
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى سَعْدٍ ، قَالَ : جِئْتُ بِاللَّيْلِ أَنَا وَسَعْدٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - إِلَى بُسْتَانٍ ذِي نَخْلٍ ، فَطَلَبْنَا صَاحِبَ الْبُسْتَانِ فَلَمْ نَجِدْهُ ، فَقَالَ لِي سَعْدٌ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنْ سَرَّكَ أَنْ تَكُونَ مُسْلِمًا حَقًّا ، فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا . قَالَ : فَظَلَّيْنَا جَائِعَيْنِ .ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو عبد الرحمن سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: میں اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ رات کے وقت کھجوروں کے ایک باغ میں گئے، ہم نے باغ کے مالک کو تلاش کیا لیکن وہ ہمیں نہ ملا، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”اگر تمہیں یہ بات پسند ہے کہ تم پکے اور سچے مسلمان بنو، تو اس (باغ) میں سے کچھ بھی نہ کھانا“، راوی کہتے ہیں: چنانچہ ہم نے بھوکے رہ کر رات گزاری۔