قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَبِّلُ الْحَجَرَ ، ثُمَّ يَسْجُدُ عَلَيْهِ ، ثُمَّ يُقَبِّلُهُ ، ثُمَّ يَسْجُدُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . الْحَدِيثَ . بَاقِيَهُ أَخْرَجُوهُ .
ترجمہ
امام طاؤس رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ حجرِ اسود کو بوسہ دیتے، پھر اس پر سجدہ کرتے، دوبارہ اسے چومتے اور پھر اس پر سجدہ ریز ہوتے، آپ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح تین مرتبہ کیا
اس اثر کا بقیہ حصہ دیگر ائمہ حدیث نے بھی اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔
اس اثر کا بقیہ حصہ دیگر ائمہ حدیث نے بھی اپنی کتب میں روایت کیا ہے۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ، مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، قَالَ : رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَسَجَدَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : رَأَيْتُ خَالِي ابْنَ عَبَّاسٍ قَبَّلَهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَسَجَدَ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبَّلَ الْحَجَرَ وَسَجَدَ عَلَيْهِ .
ترجمہ
ابو داؤد طیالسی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں مکہ مکرمہ کے رہائشی جعفر بن عبد اللہ بن عثمان قرشی نے بتایا کہ میں نے محمد بن عباد بن جعفر کو دیکھا کہ انہوں نے حجرِ اسود کا بوسہ لیا اور اس پر سجدہ کیا، اور انہوں نے یہ بتایا کہ میں نے اپنے ماموں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور اس پر سجدہ کیا، اور انہوں نے فرمایا کہ میں نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے حجرِ اسود کا بوسہ لیا اور اس پر سجدہ فرمایا۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ رَجُلٍ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عِنْدَ الْحَجَرِ فَقَالَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ ، ثُمَّ قَبَّلَهُ ،ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَقَفَ عِنْدَ الْحَجَرِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ .
ترجمہ
امام ابوبکر بن ابی شیبہؒ نے خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، شریک بن عبداللہ بن ابی نمر اور عیسیٰ بن طلحہ کے واسطے سے ایک صحابیِ رسول سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو حجرِ اسود کے پاس ایستادہ دیکھا، اس وقت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک میں خوب جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے“، پھر آپ ﷺ نے اسے بوسہ دیا۔ اسی طرح جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج ادا کیا تو وہ بھی حجرِ اسود کے پاس تشریف لائے اور اسے مخاطب کر کے فرمایا: ”یقیناً میں یہ علم رکھتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے جو نہ کسی کو نقصان پہنچانے کی قدرت رکھتا ہے اور نہ ہی فائدہ پہنچانے کی، اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔“