المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السُّجُودِ عَلَى الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ باب: حجرِ اسود پر سجدہ کرنے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ رَجُلٍ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عِنْدَ الْحَجَرِ فَقَالَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ ، ثُمَّ قَبَّلَهُ ،ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَوَقَفَ عِنْدَ الْحَجَرِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ .امام ابوبکر بن ابی شیبہؒ نے خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، شریک بن عبداللہ بن ابی نمر اور عیسیٰ بن طلحہ کے واسطے سے ایک صحابیِ رسول سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو حجرِ اسود کے پاس ایستادہ دیکھا، اس وقت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک میں خوب جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے“، پھر آپ ﷺ نے اسے بوسہ دیا۔ اسی طرح جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج ادا کیا تو وہ بھی حجرِ اسود کے پاس تشریف لائے اور اسے مخاطب کر کے فرمایا: ”یقیناً میں یہ علم رکھتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے جو نہ کسی کو نقصان پہنچانے کی قدرت رکھتا ہے اور نہ ہی فائدہ پہنچانے کی، اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔“