کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: حج اور عمرہ بار بار کرنے کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حج اور عمرہ ایک دوسرے کے بعد پے در پے ادا کیا کرو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ دونوں (عبادتیں) فقر و محتاجی اور گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتی ہیں جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“
محدثین و شارحین کے نزدیک پے در پے حج و عمرہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک سے فارغ ہوں تو دوسرے کی تیاری کریں، اور اس فضیلت کا مدار خلوصِ نیت پر ہے جس سے فقرِ ظاہری اور فقرِ باطنی دونوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
محدثین و شارحین کے نزدیک پے در پے حج و عمرہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک سے فارغ ہوں تو دوسرے کی تیاری کریں، اور اس فضیلت کا مدار خلوصِ نیت پر ہے جس سے فقرِ ظاہری اور فقرِ باطنی دونوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنٍ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، الْحَدِيثَ .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک صاحبزادے سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حج اور عمرہ پے در پے (ایک کے بعد دوسرا) ادا کیا کرو“ (راوی نے اسی طرح مکمل حدیث ذکر فرمائی ہے)۔