المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْمُتَابَعَةِ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ باب: حج اور عمرہ بار بار کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1136
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا عَبَّادٌ عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”حج اور عمرہ ایک دوسرے کے بعد پے در پے ادا کیا کرو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ دونوں (عبادتیں) فقر و محتاجی اور گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتی ہیں جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے۔“
محدثین و شارحین کے نزدیک پے در پے حج و عمرہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک سے فارغ ہوں تو دوسرے کی تیاری کریں، اور اس فضیلت کا مدار خلوصِ نیت پر ہے جس سے فقرِ ظاہری اور فقرِ باطنی دونوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔