المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْحَجِّ مَاشِيًا باب: پیدل حج کرنے کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ مَنْ حَدَّثَهُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ لِبَنِيهِ : اخْرُجُوا طَائِعِينَ مِنْ مَكَّةَ مُشَاةً ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِنَّ لِلْحَاجِّ الرَّاكِبِ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا رَاحِلَتُهُ سَبْعِينَ حَسَنَةً ، وَلِلْمَاشِي بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا سَبْعَمِائَةِ حَسَنَةٍ مِنْ حَسَنَاتِ الْحَرَمِ . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَا حَسَنَاتُ الْحَرَمِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْحَسَنَةُ بِمِائَةِ أَلْفٍ .
1135 \ 2 - تَابَعَهُ عِيسَى بْنُ سَوَادَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا . أَخْرَجَهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ ، وَالْحَاكِمُ مِنْ طَرِيقِهِ ، وَقَالَ الْبَيْهَقِيُّ : عِيسَى مَجْهُولٌ .سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو مکہ سے اللہ کی اطاعت بجا لاتے ہوئے پیدل (حج کے لیے) نکلنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”سوار ہو کر حج کرنے والے کے لیے اس کی سواری کے ہر قدم کے بدلے ستر نیکیاں ہیں، اور پیدل چلنے والے کے لیے اس کے ہر قدم کے بدلے حرم کی نیکیوں میں سے سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں“۔ عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! حرم کی نیکیوں کی حقیقت کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”(حرم کی) ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہوتی ہے“۔
اس روایت کی عیسیٰ بن سوادہ نے اسماعیل بن ابی خالد، زاذان اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سند سے متابعت کی ہے؛ اسے امام ابن خزیمہ اور ان کے طریق سے امام حاکم نے روایت کیا ہے، جبکہ امام بیہقی فرماتے ہیں کہ اس کی سند میں عیسیٰ نامی راوی مجہول ہے۔