کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: حج کی ادائیگی میں جلدی کرنے کے حکم کا بیان۔
❮
❯
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ ، ثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : حُجُّوا ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى حَبَشِيٍّ أَصْمَعَ ، بِيَدِهِ مِعْوَلٌ يَنْقُضُهَا حَجَرًا حَجَرًا . قُلْنَا لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : أَبِرَأْيِكَ ؟ قَالَ : لَا ، وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے لوگوں کو تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ”تم لوگ حج ادا کر لیا کرو، کیونکہ (آنے والے وقت میں) میں گویا اپنی آنکھوں سے ایک چھوٹے کانوں والے حبشی شخص کو دیکھ رہا ہوں جس کے ہاتھ میں کدال ہے اور وہ بیت اللہ کو ایک ایک پتھر کر کے ڈھا رہا ہے۔“ ہم نے عرض کیا: اے علی! کیا یہ بات آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، بلکہ قسم ہے اس ذات کی «وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ» (جس نے دانے کو چاک کیا اور روح کو تخلیق کیا)، میں نے یہ بات تمہارے نبی ﷺ سے خود سنی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1128
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 1652، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 8789»
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ كِلَابِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَخِي جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ .
ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے بھتیجے سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسلام میں صرورہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔“
ائمہِ لغت اور شارحینِ حدیث کے نزدیک لفظ 'صرورہ' سے مراد وہ شخص ہے جو رہبانیت پسند بن کر نکاح سے کنارہ کشی اختیار کرے یا وہ شخص جو قدرت و استطاعت رکھنے کے باوجود حجِ بیت اللہ ادا نہ کرے، چنانچہ دینِ اسلام نے زندگی کے ان انتہا پسندانہ رویوں کی مکمل نفی فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الحج / حدیث: 1129
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 1، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 1581، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 1282، وأخرجه معرفة السنن والآثار برقم: 10329، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2496»