المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بِتَعْجِيلِ الْحَجِّ باب: حج کی ادائیگی میں جلدی کرنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1129
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، ثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ كِلَابِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنِ ابْنِ أَخِي جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ .ترجمہ
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے بھتیجے سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسلام میں صرورہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔“
ائمہِ لغت اور شارحینِ حدیث کے نزدیک لفظ 'صرورہ' سے مراد وہ شخص ہے جو رہبانیت پسند بن کر نکاح سے کنارہ کشی اختیار کرے یا وہ شخص جو قدرت و استطاعت رکھنے کے باوجود حجِ بیت اللہ ادا نہ کرے، چنانچہ دینِ اسلام نے زندگی کے ان انتہا پسندانہ رویوں کی مکمل نفی فرمائی ہے۔