المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الحج— حج کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ مَنْ خَلَفَ الْحَاجَّ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ باب: حاجی کے گھر والوں کی دیکھ بھال کرنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1130
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : وَمَنَ خَلَفَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ كَامِلًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَجْرِهِ شَيْءٌ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ دونوں بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مرتبہ خطبہ ارشاد فرمایا، (راوی نے مکمل) حدیث ذکر کی جس میں یہ (فرمانِ عالی) بھی تھا کہ: ”جس شخص نے کسی حج یا عمرہ کرنے والے کی عدم موجودگی میں اس کے اہل و عیال کی خیر و بھلائی کے ساتھ دیکھ بھال اور کفالت کی، تو اسے بھی اس (حج یا عمرہ کرنے والے) کے برابر مکمل اجر ملے گا، اور ان کے اپنے اجر و ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں کیا جائے گا۔“