کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: زکوٰۃ میں اونٹ کے ساتھ اس کی رسی لینے کا بیان۔
❮
❯
إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا مِمَّا أَخَذَ مِنْهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَيْهِ . وَكَانَ يَأْخُذُ مَعَ الْبَعِيرِ عِقَالًا ، ثُمَّ قَرَأَ : وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ .
قُلْتُ : هَذَا مُرْسَلٌ إِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَقَدْ أَخْرَجُوا أَصْلَهُ مِنْ طَرِيقٍ مُتَّصِلَةٍ ، وَإِنَّمَا أَوْرَدْتُهُ لِهَذِهِ الزِّيَادَةِ أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ مَعَ الْبَعِيرِ عِقَالًا ، فَإِنَّهَا تُؤَيِّدُ رِوَايَةَ مَنْ رَوَى فِي الْحَدِيثِ الْمَعْرُوفِ : عِقَالًا ، خِلَافًا لِمَنْ قَالَ : عَنَاقًا .
ترجمہ
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے (مانعینِ زکوٰۃ کے حق میں) فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے اونٹ باندھنے کی ایک رسی دینے سے بھی انکار کریں گے جو وہ رسول اللہ ﷺ کو (بطور زکوٰۃ) دیا کرتے تھے، تو میں اس رسی کی خاطر بھی ان سے جنگ کروں گا۔“ اور آپ رضی اللہ عنہ اونٹ کے ساتھ اس کے پاؤں باندھنے کی رسی بھی وصول کیا کرتے تھے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ (سورۃ آل عمران: 144)۔
میں کہتا ہوں کہ یہ روایت مرسل ہے مگر اس کی سند حسن ہے، اور ائمہ حدیث نے اس کی اصل کو متصل سند کے ساتھ بھی روایت کیا ہے؛ میں نے اسے یہاں صرف اس اضافی فائدے کی وجہ سے ذکر کیا ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اونٹ کے ساتھ اس کی رسی بھی لیا کرتے تھے، کیونکہ یہ ان رواۃ کی تائید کرتی ہے جنہوں نے مشہور حدیث میں 'عقال' (رسی) کے الفاظ نقل کیے ہیں، ان کے برخلاف جنہوں نے 'عناق' (بکری کا بچہ) کے الفاظ بیان کیے ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 900
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل حسن
قال ابن حجر: مرسل إسناده حسن ، المطالب العالية: (5 / 506) برقم: (900) »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 900، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 9922، 10858، 33403»
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا ابْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ يَحْيَى قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - اسْتَشَارَ عَلِيًّا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي أَهْلِ الرِّدَّةِ ، فَقَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى جَمَعَ الصَّلَاةَ وَالزَّكَاةَ ، وَلَا أَرَى أَنْ تُفْرَقَ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - مَا قَالَ .
قَالَ مُسَدَّدٌ : الْعِقَالُ : الْمِائَةُ مِنَ الْإِبِلِ الْفَرِيضَةُ .
ترجمہ
یحییٰ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتنہ ارتداد میں مبتلا ہونے والوں (اہلِ ردہ) کے معاملے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ طلب کیا، تو انہوں نے عرض کیا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے (قرآن حکیم میں) نماز اور زکوٰۃ کو یکجا بیان فرمایا ہے، اور میری یہ رائے نہیں ہے کہ ان کے درمیان کوئی تفریق کی جائے“، اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہی (تاریخی اور دو ٹوک) کلمات ارشاد فرمائے جو انہوں نے کہے تھے۔
امام مسدد فرماتے ہیں کہ ’عقال‘ سے مراد زکوٰۃ میں بطورِ فریضہ واجب الادا سو اونٹ ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الزكاة / حدیث: 901
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف؛ فهو منقطع. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»