المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الزكاة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَخْذِ عِقَالِ الْبَعِيرِ فِي الصَّدَقَةِ باب: زکوٰۃ میں اونٹ کے ساتھ اس کی رسی لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 901
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا ابْنُ دَاوُدَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ يَحْيَى قَالَ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - اسْتَشَارَ عَلِيًّا - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي أَهْلِ الرِّدَّةِ ، فَقَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى جَمَعَ الصَّلَاةَ وَالزَّكَاةَ ، وَلَا أَرَى أَنْ تُفْرَقَ ، فَعِنْدَ ذَلِكَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - مَا قَالَ .
قَالَ مُسَدَّدٌ : الْعِقَالُ : الْمِائَةُ مِنَ الْإِبِلِ الْفَرِيضَةُ .ترجمہ
یحییٰ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتنہ ارتداد میں مبتلا ہونے والوں (اہلِ ردہ) کے معاملے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ طلب کیا، تو انہوں نے عرض کیا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے (قرآن حکیم میں) نماز اور زکوٰۃ کو یکجا بیان فرمایا ہے، اور میری یہ رائے نہیں ہے کہ ان کے درمیان کوئی تفریق کی جائے“، اس پر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وہی (تاریخی اور دو ٹوک) کلمات ارشاد فرمائے جو انہوں نے کہے تھے۔
امام مسدد فرماتے ہیں کہ ’عقال‘ سے مراد زکوٰۃ میں بطورِ فریضہ واجب الادا سو اونٹ ہیں۔