کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: قرض دیے گئے مال سے زکوٰۃ ساقط ہونے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَاذَانَ ، عَنْ أُمِّ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّةِ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : لَيْسَ عَلَى مَنْ أَسْلَفَ مَالًا زَكَاةٌ .
إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ .
إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ .
ترجمہ
سیدہ ام سعد انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے اپنا مال کسی کو بطورِ قرض دے رکھا ہو، اس پر اس کی زکوٰۃ لازم نہیں ہے۔“
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔
اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ ابْنُ شِهَابٍ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَقُولُ : هَذَا شَهْرُ زَكَاتِكُمْ ، فَمَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَلْيَقْضِ ، ثُمَّ لِيَتْرُكْ مَا بَقِيَ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ .
ترجمہ
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”یہ تمہاری زکوٰۃ کی ادائیگی کا مہینہ ہے، لہٰذا جس شخص کے ذمہ کوئی قرض ہو وہ اسے ادا کر دے، پھر جو مال باقی بچ جائے وہ اس میں سے زکوٰۃ ادا کرے۔“
اس روایت کی سند صحیح ہے اور یہ اثر موقوف ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے اور یہ اثر موقوف ہے۔