المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الطِّفْلِ وَعَلَى وَلَدِ الزِّنَا باب: بچے اور ولد الزنا کی نمازِ جنازہ کا بیان۔
( 35 ) حَدِيثُ جَابِرٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - تَقَدَّمَ .سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ مبارکہ کا مفصل متن گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے۔
فاضل مؤلف کا یہ اسلوب تکرار سے بچنے اور اختصار کو ملحوظ رکھنے کے لیے ہے کیونکہ مذکورہ روایت اپنی مکمل اسناد و شواہد کے ساتھ پہلے بیان کی جا چکی ہے۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، قَالَ : صَلَّى ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - عَلَى مَوْلُودٍ فِي الدَّارِ ، ثُمَّ بَعَثَ بِهِ فَدُفِنَ . فَقُلْتُ لِنَافِعٍ : أَكَانَ اسْتَهَلَّ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے گھر ہی میں ایک نومولود بچے کی نمازِ جنازہ ادا کی، پھر اسے (تدفین کے لیے) روانہ کیا اور اسے سپردِ خاک کر دیا گیا، (راویِ حدیث عبید اللہ کہتے ہیں کہ) میں نے نافع سے دریافت کیا: کیا اس بچے نے ولادت کے وقت آواز نکالی تھی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔