المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الجنائز— جنازوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الطِّفْلِ وَعَلَى وَلَدِ الزِّنَا باب: بچے اور ولد الزنا کی نمازِ جنازہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، أَنَّهُ شَهِدَ ابْنَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فِي جِنَازَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يُوَسْوِسُونَ : هُوَ ابْنُ زِنْيَةٍ ، فَقَالَ فُلَانٌ : يُقَالُ : هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَابْنَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فَقَالَ : لَا ، هُوَ خَيْرُ الثَّلَاثَةِ .میمون بن مہران سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ایک جنازے میں شریک تھے کہ وہاں موجود لوگ آپس میں کانا پھوسی کرنے لگے کہ یہ تو ولد الزنا (ناجائز اولاد) ہے، اسی اثنا میں کسی نے کہا کہ ایسے شخص کے متعلق تو یہ مشہور ہے کہ وہ ان تینوں میں سب سے بدتر ہے، جب یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تک پہنچی تو آپ نے اس نظریے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: ”ہرگز نہیں، بلکہ وہ ان تینوں میں سب سے بہتر ہے“
وضاحت: ائمہ و شارحین اس کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ بچہ اپنے زانی والدین کے مقابلے میں اس لیے بہتر ہے کیونکہ وہ گناہ کے ارادے اور اس قبیح فعل سے مبرا و معصوم ہے، اور شریعتِ مطہرہ کا یہ عالمگیر اصول ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾ (سورۃ الفاطر: 18) بالکل واضح ہے کہ کسی بھی جان پر دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں ڈالا جاتا۔