کتب حدیث › المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب › باب: نماز سے فارغ ہونے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا قَيْسٌ - هُوَ ابْنُ الرَّبِيعِ - عَنْ عُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَيْتُهُ يَنْفَتِلُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ يَسَارِهِ .
ترجمہ
سیدنا اوس ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، تو میں نے آپ ﷺ کو ملاحظہ کیا کہ آپ ﷺ (نماز مکمل کرنے کے بعد) اپنی دائیں جانب سے بھی رخِ انور پھیر کر مڑتے تھے اور اپنی بائیں جانب سے بھی مڑ جایا کرتے تھے۔“
تخریج و تحکیم: سنن ابی داود: 1042، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو قیس بن ربیع کے سوءِ حفظ کی وجہ سے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم دیگر صحیح احادیث سے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے مڑنے کا عمل ثابت ہے۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 545
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 931، وأخرجه مسند أحمد برقم: 6744، 6982، وأخرجه مسند البزار برقم: 1205، 3512، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 7888»
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ وَاسِعٌ ، انْصَرَفَ عَنْ يَسَارِهِ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَجَلَسَ إِلَيْهِ : فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَنْصَرِفَ عَنْ يَمِينِكَ ؟ قَالَ : لِأَنِّي رَأَيْتُكَ فَانْصَرَفْتُ إِلَيْكَ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِنَّكَ قَدْ أَحْسَنْتَ ! ، إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي فَانْصَرَفْتَ ، فَانْصَرِفْ عَنْ يَمِينِكَ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي فَانْصَرَفْتَ ، فَانْصَرِفْ إِنْ شِئْتَ عَنْ يَمِينِكَ ، وَإِنْ شِئْتَ عَنْ يَسَارِكَ .
ترجمہ
واسع بن حبان سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں کھڑے نماز ادا کر رہے تھے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد کی دیوارِ قبلہ سے اپنی پشت لگائے بیٹھے تھے، جب واسع اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو وہ اپنی بائیں جانب سے مڑ کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف گئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے دریافت کیا: ”تمہیں اپنی دائیں جانب مڑنے سے کس بات نے روکا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے آپ کو (اس سمت) دیکھا تو میں آپ کی طرف مڑ آیا۔“ اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم نے بہت اچھا کیا! دراصل کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب تم نماز پڑھ کر فارغ ہو تو صرف دائیں جانب ہی سے مڑا کرو۔“ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تم نماز سے فارغ ہو کر مڑنے لگو تو تمہیں اختیار ہے، اگر چاہو تو دائیں طرف سے مڑو اور اگر چاہو تو بائیں طرف سے مڑو۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / صفة الصلاة / حدیث: 546
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 585، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5741، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 546، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 3212، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 3133»