المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الِانْصِرَافِ مِنَ الصَّلَاةِ باب: نماز سے فارغ ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ كَانَ قَائِمًا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ ، وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ وَاسِعٌ ، انْصَرَفَ عَنْ يَسَارِهِ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَجَلَسَ إِلَيْهِ : فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَنْصَرِفَ عَنْ يَمِينِكَ ؟ قَالَ : لِأَنِّي رَأَيْتُكَ فَانْصَرَفْتُ إِلَيْكَ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِنَّكَ قَدْ أَحْسَنْتَ ! ، إِنَّ نَاسًا يَقُولُونَ : إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي فَانْصَرَفْتَ ، فَانْصَرِفْ عَنْ يَمِينِكَ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - : إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي فَانْصَرَفْتَ ، فَانْصَرِفْ إِنْ شِئْتَ عَنْ يَمِينِكَ ، وَإِنْ شِئْتَ عَنْ يَسَارِكَ .واسع بن حبان سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں کھڑے نماز ادا کر رہے تھے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد کی دیوارِ قبلہ سے اپنی پشت لگائے بیٹھے تھے، جب واسع اپنی نماز سے فارغ ہوئے تو وہ اپنی بائیں جانب سے مڑ کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف گئے اور ان کے پاس بیٹھ گئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے دریافت کیا: ”تمہیں اپنی دائیں جانب مڑنے سے کس بات نے روکا؟“ انہوں نے جواب دیا: ”میں نے آپ کو (اس سمت) دیکھا تو میں آپ کی طرف مڑ آیا۔“ اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”تم نے بہت اچھا کیا! دراصل کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب تم نماز پڑھ کر فارغ ہو تو صرف دائیں جانب ہی سے مڑا کرو۔“ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تم نماز سے فارغ ہو کر مڑنے لگو تو تمہیں اختیار ہے، اگر چاہو تو دائیں طرف سے مڑو اور اگر چاہو تو بائیں طرف سے مڑو۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔