قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ : ( شَهِدْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمَكَّةَ ، وَالْحَجَّاجُ مُحَاصِرٌ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَيْنَهُمَا ، فَكَانَ رُبَّمَا حَضَرَ الصَّلَاةَ مَعَ هَؤُلَاءِ ، وَرُبَّمَا حَضَرَ [الصَّلَاةَ] مَعَ هَؤُلَاءِ ) .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .
ترجمہ
عمیر بن ہانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں مکہ مکرمہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی میں شاہد تھا جب کہ حجاج بن یوسف نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں گروہوں کے درمیان (غیر جانبدارانہ حالت میں) مقیم تھے، چنانچہ بسا اوقات آپ ان لوگوں (حجاج کے لشکر) کے ساتھ نماز میں شریک ہوتے تھے اور کبھی ان لوگوں (سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے رفقاء) کے ساتھ نماز ادا کر لیتے تھے۔“
اس کی سند صحیح ہے۔
اس کی سند صحیح ہے۔
وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ [أَبِي] حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْقَرَّاظِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يُحَافِظُ الْمُنَافِقُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً عَلَى [صَلَاةِ] الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ " - يَعْنِي فِي جَمَاعَةٍ .
ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”منافق شخص چالیس راتوں تک مسلسل عشا کی نماز کی پابندی نہیں کر سکتا“ یعنی باجماعت عشا کی نماز ادا کرنا اس کے بس کی بات نہیں ہوتی۔
اس روایت کو امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں محمد بن ابی حمید راوی کے سوءِ حفظ (حافظے کی خرابی) کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
اس روایت کو امام ابوداؤد طیالسی نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے، تاہم اس کی سند میں محمد بن ابی حمید راوی کے سوءِ حفظ (حافظے کی خرابی) کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے۔