المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أَقَلِّ الْجَمَاعَةِ باب: جماعت کی کم سے کم تعداد کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَفَدَ رَجُلٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا رَجُلٌ يَتَصَدَّقُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ ؟ " قَالَ : فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّى مَعَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ الْجَمَاعَةُ ، وَهَؤُلَاءِ جَمَاعَةٌ " .سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص (نمازِ باجماعت کے بعد مسجد میں) آیا، تو نبی کریم ﷺ نے (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر) ارشاد فرمایا: ”کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اس (آنے والے) پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ مل کر نماز ادا کرے؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر ایک شخص اٹھا اور اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھی، تب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یہ بھی ایک جماعت ہے اور وہ (جو پہلے ہو چکی) بھی جماعت تھی۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (408) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبید اللہ بن زحر اور علی بن یزید الہانی موجود ہیں جو کہ محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہیں، تاہم اس کا شاہد صحیح ترمذی وغیرہ میں موجود ہے۔