المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمُحَافَظَةِ عَلَى الْجَمَاعَةِ باب: نمازِ باجماعت کی پابندی کا بیان۔
حدیث نمبر: 409
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ : ( شَهِدْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِمَكَّةَ ، وَالْحَجَّاجُ مُحَاصِرٌ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَيْنَهُمَا ، فَكَانَ رُبَّمَا حَضَرَ الصَّلَاةَ مَعَ هَؤُلَاءِ ، وَرُبَّمَا حَضَرَ [الصَّلَاةَ] مَعَ هَؤُلَاءِ ) .
إِسْنَادُهُ صَحِيحٌ .ترجمہ
عمیر بن ہانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں مکہ مکرمہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی موجودگی میں شاہد تھا جب کہ حجاج بن یوسف نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دونوں گروہوں کے درمیان (غیر جانبدارانہ حالت میں) مقیم تھے، چنانچہ بسا اوقات آپ ان لوگوں (حجاج کے لشکر) کے ساتھ نماز میں شریک ہوتے تھے اور کبھی ان لوگوں (سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے رفقاء) کے ساتھ نماز ادا کر لیتے تھے۔“
اس کی سند صحیح ہے۔