قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ هُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " لَوْ أُطِيقُ الْأَذَانَ مَعَ الْخِلِّيفَى لَأَذَّنْتُ " .
صَحِيحٌ .
صَحِيحٌ .
ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں خلافت کی بھاری ذمہ داریوں اور اس کے امور کو نبھانے کے ساتھ ساتھ اذان دینے کی بھی استطاعت و سکت رکھتا، تو میں یقیناً خود اذان دیا کرتا۔“
یہ روایت صحیح ہے۔
یہ روایت صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا عِيسَى ، أَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِجُلَسَائِهِ : " مَنْ مُؤَذِّنُكُمْ ؟ " قَالُوا : عَبِيدُنَا وَمَوَالِينَا ، قَالَ : " مَوَالِينَا وَعَبِيدُنَا ، إِنَّ ذَلِكَ بِكُمْ لَنَقْصٌ كَثِيرٌ " .
ترجمہ
شبیل بن عوف سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہم نشینوں سے دریافت فرمایا: ”تمہارے ہاں اذان کون دیتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ہمارے غلام اور ہمارے آزاد کردہ غلام۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے آزاد کردہ غلام اور تمہارے غلام (ہی یہ فریضہ انجام دیتے ہیں)! بلاشبہ تمہارے حق میں یہ ایک بہت بڑی کمی اور محرومی ہے۔“
تخریج: یہ اثر امام ابن ابی شیبہ نے اپنی 'المصنف' (233) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں شبیل بن عوف کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے انقطاع پایا جاتا ہے۔
تخریج: یہ اثر امام ابن ابی شیبہ نے اپنی 'المصنف' (233) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں شبیل بن عوف کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے انقطاع پایا جاتا ہے۔