المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لَا يَكُونُ الْإِمَامُ مُؤَذِّنًا باب: امام کے مؤذن نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 233
حَدَّثَنَا عِيسَى ، أَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِجُلَسَائِهِ : " مَنْ مُؤَذِّنُكُمْ ؟ " قَالُوا : عَبِيدُنَا وَمَوَالِينَا ، قَالَ : " مَوَالِينَا وَعَبِيدُنَا ، إِنَّ ذَلِكَ بِكُمْ لَنَقْصٌ كَثِيرٌ " .ترجمہ
شبیل بن عوف سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہم نشینوں سے دریافت فرمایا: ”تمہارے ہاں اذان کون دیتا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”ہمارے غلام اور ہمارے آزاد کردہ غلام۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے آزاد کردہ غلام اور تمہارے غلام (ہی یہ فریضہ انجام دیتے ہیں)! بلاشبہ تمہارے حق میں یہ ایک بہت بڑی کمی اور محرومی ہے۔“
تخریج: یہ اثر امام ابن ابی شیبہ نے اپنی 'المصنف' (233) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں شبیل بن عوف کا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہ ہونے کی وجہ سے انقطاع پایا جاتا ہے۔