المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ لَا يَكُونُ الْإِمَامُ مُؤَذِّنًا باب: امام کے مؤذن نہ ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 232
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ هُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : " لَوْ أُطِيقُ الْأَذَانَ مَعَ الْخِلِّيفَى لَأَذَّنْتُ " .
صَحِيحٌ .ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں خلافت کی بھاری ذمہ داریوں اور اس کے امور کو نبھانے کے ساتھ ساتھ اذان دینے کی بھی استطاعت و سکت رکھتا، تو میں یقیناً خود اذان دیا کرتا۔“
یہ روایت صحیح ہے۔