کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: منی کے پاک ہونے کے بارے میں فقہاء کے مابین پائے جانے والے اختلافِ رائے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ كَانَ يَحُكُّ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِهِ " .
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”وہ اپنے لباس سے منی کو کھرچ کر صاف کر دیا کرتے تھے۔“
اس اثر کو امام مسدد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے؛ یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ کپڑے پر لگی خشک منی کو محض کھرچ کر زائل کر دینا طہارت کے لیے کافی ہے۔
اس اثر کو امام مسدد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے؛ یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ کپڑے پر لگی خشک منی کو محض کھرچ کر زائل کر دینا طہارت کے لیے کافی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ " فِي الرَّجُلِ احْتَلَمَ فِي ثَوْبٍ ثُمَّ خَفِيَ عَلَيْهِ ، قَالَ : اغْسِلِ الثَّوْبَ كُلَّهُ " .
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں روایت ہے جسے اپنے کپڑے میں احتلام (نیند میں انزال) ہو جائے اور پھر اس پر ناپاکی کا مقام مخفی ہو جائے (یعنی اسے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ نجاست کہاں لگی ہے) تو انہوں نے فرمایا: ”تم اس پورے کپڑے کو دھو ڈالو۔“
اس کی سند میں ایک راوی مبہم (نامعلوم) ہے جس کی وجہ سے یہ روایت فنی اعتبار سے ضعیف ہے۔
اس کی سند میں ایک راوی مبہم (نامعلوم) ہے جس کی وجہ سے یہ روایت فنی اعتبار سے ضعیف ہے۔