المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الِاخْتِلَافِ فِي طَهَارَةِ الْمَنِيِّ باب: منی کے پاک ہونے کے بارے میں فقہاء کے مابین پائے جانے والے اختلافِ رائے کا بیان۔
حدیث نمبر: 185
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ " فِي الرَّجُلِ احْتَلَمَ فِي ثَوْبٍ ثُمَّ خَفِيَ عَلَيْهِ ، قَالَ : اغْسِلِ الثَّوْبَ كُلَّهُ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں روایت ہے جسے اپنے کپڑے میں احتلام (نیند میں انزال) ہو جائے اور پھر اس پر ناپاکی کا مقام مخفی ہو جائے (یعنی اسے یہ معلوم نہ ہو سکے کہ نجاست کہاں لگی ہے) تو انہوں نے فرمایا: ”تم اس پورے کپڑے کو دھو ڈالو۔“
اس کی سند میں ایک راوی مبہم (نامعلوم) ہے جس کی وجہ سے یہ روایت فنی اعتبار سے ضعیف ہے۔