المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الغسل— غسل کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ إِيجَابِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ باب: شرمگاہوں کے باہمی ملاپ کے سبب غسل کے واجب ہونے کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حُيَيَّةَ مَوْلَى ابْنَةِ صَفْوَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَفْتَى عَلَى رِفَاعَةَ ، فَقَالَ : أَوَكُنْتُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ ، إِذَا أَصَابَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ ثُمَّ أَكْسَلَ لَمْ يَغْتَسِلْ ؟ قَالَ : " قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَأْتِنَا فِيهِ مِنَ اللهِ تَعَالَى تَحْرِيمٌ ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهْيٌ " .
186 \ 2 - رَوَاهُ الْإِمَامُ أَحْمَدَ قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، ثَنَا زُهَيْرٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ قَالَا : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حُيَيَّةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ - قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ : رِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ وَكَانَ عَقَبِيًّا بَدْرِيًّا - ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُفْتِي النَّاسَ فِي الْمَسْجِدِ ! - قَالَ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ : النَّاسَ بِرَأْيِهِ - فِي الَّذِي يُجَامِعُ وَلَا يُنْزِلُ ، فَقَالَ : أَعْجِلْ بِهِ ، فَأَتَى بِهِ . فَقَالَ : يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ ، أَوَقَدْ بَلَغْتَ أَنْ تُفْتِيَ النَّاسَ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَأْيِكَ ؟ قَالَ : مَا فَعَلْتُ ذَلِكَ ، حَدَّثَتْنِي عُمُومَتِي ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَيُّ عُمُومَتِكَ ؟ قَالَ : أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ . قَالَ زُهَيْرٌ : وَأَبُو أَيُّوبَ ، وَرِفَاعَةُ بْنُ رَافِعٍ .
فَالْتَفَتَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَيَّ فَقَالَ : مَا يَقُولُ هَذَا الْفَتَى ؟ فَقُلْتُ : كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَسَأَلْتُمْ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فَجَمَعَ النَّاسَ ، فَاتَّفَقَ عَلَى أَنَّ الْمَاءَ لَا يَكُونُ إِلَّا مِنَ الْمَاءِ ، إِلَّا رَجُلَيْنِ : عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَا : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
قَالَ : فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ أَعْلَمَ النَّاسِ بِهَذَا أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ! فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، فَقَالَتْ : لَا عِلْمَ لِي . فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ : " إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ " .
فَتَحَطَّمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، ثُمَّ قَالَ : لَا يَبْلُغُنِي أَنَّ أَحَدًا فَعَلَهُ وَلَمْ يَغْتَسِلْ إِلَّا أَنْهَكْتُهُ عُقُوبَةً .
186 \ 3 - وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، فَذَكَرَهُ مُطَوَّلًا . وَمَعْمَرٌ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ .
وَأَصْلُهُ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ حَدِيثَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مُجَرَّدًا .
186 \ 4 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي حُيَيَّةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُصُّ فَيَقُولُ فِي قَصَصِهِ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا خَالَطَ الْمَرْأَةَ فَلَمْ يُنْزِلْ فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ " . فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ عِنْدِ زَيْدٍ فَأَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلرَّجُلِ : اذْهَبْ إِلَيْهِ فَائْتِنِي بِهِ ; لِتَكُونَ عَلَيْهِ شَهِيدًا ! فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا عَدُوَّ اللهِ ، أَنْتَ الَّذِي تُضِلُّ النَّاسَ بِغَيْرِ عِلْمٍ ! فَقَالَ زَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : وَاللهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا ابْتَدَعْتُهُ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي ، وَإِنَّمَا أَخْبَرَنِي بِهِ أَعْمَامِي . قَالَ : وَأَيُّ عُمُومَتِكَ ؟ قَالَ : أُبَيٌّ ، وَأَبُو أَيُّوبَ ، وَرِفَاعَةُ يَوْمَئِذٍ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، فَقَالَ رِفَاعَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْلَمُ ؟ قَالَ : لَا عِلْمَ لِي .
فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَصْلُحُ ، وَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَصْلُحُ .سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم واقعی ایسا کرتے تھے کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا اور پھر انزال نہ ہوتا تو غسل نہیں کرتا تھا؟ انہوں نے عرض کیا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک میں ایسا ہی کیا کرتے تھے، اس کے متعلق نہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ممانعت آئی تھی اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا تھا۔“
امام احمد نے روایت کیا کہ سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ (جو کہ بیعتِ عقبہ اور غزوۂ بدر میں شریک تھے) بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ان سے کہا گیا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں لوگوں کو اس شخص کے بارے میں فتویٰ دے رہے ہیں جو جماع تو کرے مگر اسے انزال نہ ہو! سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ انہیں فوراً میرے پاس لاؤ، چنانچہ انہیں لایا گیا۔ آپ نے فرمایا: ”اے اپنی جان کے دشمن! کیا تمہاری یہ جرأت ہو گئی ہے کہ تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں لوگوں کو اپنی رائے سے فتوے دینے لگے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میں نے ایسا اپنی طرف سے نہیں کیا، بلکہ مجھے میرے چچاؤں نے رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے یہ بات بتائی تھی۔“ آپ نے پوچھا: ”کون سے چچاؤں نے؟“ انہوں نے کہا: ”سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابو ایوب اور سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہم نے۔“
سیدنا رفاعہ فرماتے ہیں کہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”یہ نوجوان کیا کہہ رہا ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔“ آپ نے پوچھا: ”کیا تم نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت بھی کیا تھا؟“ میں نے کہا: ”ہم تو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں اسی طرح کیا کرتے تھے۔“
راوی کہتے ہیں کہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا تو سب اس بات پر متفق ہو گئے کہ ”پانی (یعنی غسل) صرف پانی (یعنی انزال) سے ہی واجب ہوتا ہے“، سوائے دو افراد کے یعنی سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما، ان دونوں نے فرمایا: ”جب ختنہ والی جگہ ختنہ والی جگہ سے متجاوز ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے امیر المؤمنین! اس معاملے میں لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والی نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات ہیں۔“ چنانچہ آپ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس بارے میں علم نہیں۔“ پھر آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے فرمایا: ”جب ختنہ والی جگہ ختنہ والی جگہ سے متجاوز ہو جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“
یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جوشِ غضب میں آ گئے اور فرمایا: ”اب اگر مجھے معلوم ہوا کہ کسی نے ہمبستری کی اور غسل نہیں کیا تو میں اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔“
عبداللہ بن احمد نے بھی اس روایت کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور معمر نامی راوی کی امام ابن معین نے توثیق کی ہے۔
اس روایت کی اصل صحیحین میں ہے مگر اس سیاق کے علاوہ ہے، اور بعض نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو الگ سے بھی روایت کیا ہے۔
احمد بن منیع نے بھی روایت کیا کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کیا کرتے تھے کہ: ”مرد جب عورت سے ہمبستری کرے اور اسے انزال نہ ہو تو اس پر غسل واجب نہیں ہے۔“ ایک شخص نے جب یہ سنا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر انہیں خبر دی، آپ نے اس سے فرمایا: ”جاؤ اور انہیں میرے پاس لے کر آؤ تاکہ تم ان پر گواہ رہو۔“ جب وہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ کے دشمن! کیا تم لوگوں کو بغیر علم کے گمراہ کر رہے ہو؟“ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! اللہ کی قسم، میں نے یہ بات اپنی طرف سے ایجاد نہیں کی بلکہ مجھے میرے چچاؤں نے اس کی خبر دی تھی۔“ آپ نے پوچھا: ”تمہارے کون سے چچا؟“ انہوں نے کہا: ”ابی بن کعب اور ابو ایوب رضی اللہ عنہما۔“ اس وقت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، انہوں نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔“ آپ نے پوچھا: ”کیا رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم تھا؟“ انہوں نے کہا: ”مجھے اس کا علم نہیں۔“
پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! یہ بات درست نہیں ہے“، اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے بھی یہی عرض کیا کہ ”اے امیر المؤمنین! یہ بات درست نہیں ہے۔“