کتب حدیث ›
المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية › ابواب
› باب: مستعمل پانی یعنی وہ پانی جس سے وضو یا غسل کر لیا گیا ہو، اس کے احکام و مسائل کا بیان۔
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : سَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَاءٍ ، وَفِي الْمَاءِ قِلَّةٌ ، " فَتَوَضَّأَ فِي جَوْفِ الْإِنَاءِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَنُضِحَ عَلَى الْقَوْمِ " فَسَعُدَ فِي أَنْفُسِنَا مَنْ أَصَابَهُ ذَلِكَ الْمَاءُ .
قَالَ : وَأُرَاهُ قَدْ أَصَابَ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ .
وَفِي إِسْنَادِهِ شَيْخٌ .
قَالَ : وَأُرَاهُ قَدْ أَصَابَ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ .
وَفِي إِسْنَادِهِ شَيْخٌ .
ترجمہ
سیدنا جابر بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں تھوڑا سا پانی لایا گیا، تو آپ ﷺ نے ”برتن کے اندر ہی وضو فرمایا، پھر اس (بچے ہوئے پانی) کے متعلق حکم دیا تو اسے تمام لوگوں پر چھڑک دیا گیا“، پس ہم میں سے جس کسی کو بھی وہ پانی پہنچا اس نے اپنے تئیں اسے بڑی خوش بختی اور سعادت مندی خیال کیا؛ راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ پانی تمام حاضرین کو پہنچ گیا تھا، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور انہیں صبح کی نماز پڑھائی؛ اور اس حدیث کی سند میں ایک غیر معروف شیخ موجود ہے۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي خَارِجَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ سَرْجٍ ، عَنْ بِنْتِ قَيْسٍ ، وَهِيَ خَوْلَةُ ، وَهِيَ جَدَّةُ خَارِجَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ : " قَدِ اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ " .
ترجمہ
سیدہ خولہ بنتِ قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میرا ہاتھ اور رسول اللہ ﷺ کا دستِ مبارک ایک ہی برتن میں (پانی لینے کے لیے) باری باری پڑ رہے تھے۔“