المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلِ باب: مستعمل پانی یعنی وہ پانی جس سے وضو یا غسل کر لیا گیا ہو، اس کے احکام و مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 10
مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : سَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَاءٍ ، وَفِي الْمَاءِ قِلَّةٌ ، " فَتَوَضَّأَ فِي جَوْفِ الْإِنَاءِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَنُضِحَ عَلَى الْقَوْمِ " فَسَعُدَ فِي أَنْفُسِنَا مَنْ أَصَابَهُ ذَلِكَ الْمَاءُ .
قَالَ : وَأُرَاهُ قَدْ أَصَابَ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي بِهِمْ صَلَاةَ الصُّبْحِ .
وَفِي إِسْنَادِهِ شَيْخٌ .ترجمہ
سیدنا جابر بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں تھوڑا سا پانی لایا گیا، تو آپ ﷺ نے ”برتن کے اندر ہی وضو فرمایا، پھر اس (بچے ہوئے پانی) کے متعلق حکم دیا تو اسے تمام لوگوں پر چھڑک دیا گیا“، پس ہم میں سے جس کسی کو بھی وہ پانی پہنچا اس نے اپنے تئیں اسے بڑی خوش بختی اور سعادت مندی خیال کیا؛ راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ پانی تمام حاضرین کو پہنچ گیا تھا، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور انہیں صبح کی نماز پڑھائی؛ اور اس حدیث کی سند میں ایک غیر معروف شیخ موجود ہے۔