❮
❯
حدیث نمبر: 2439
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، ثَنَا عُبَيْدٌ الْأَغَرُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ جَهْجَاهٍ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّهُ قَدِمَ فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ يُرِيدُونَ الْإِسْلَامَ ، فَحَضَرُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ ، قَالَ : يَأْخُذُ كُلُّ رَجُلٍ بِيَدِ جَلِيسِهِ ، فَلَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِي ، وَكُنْتُ رَجُلًا طَوِيلًا لَا يُقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ ، فَذَهَبَ بِي رَسُولُ اللهِ إِلَى مَنْزِلِهِ فَحَلَبَ لِي عَنْزًا ، فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا [حَتَّى حَلَبَ لِي سَبْعَةَ أَعْنُزٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا] ثُمَّ أُتِيتُ بِصَنِيعِ بُرْمَةٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا ، فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : " أَجَاعَ اللهُ مَنْ أَجَاعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَهْ يَا أُمَّ أَيْمَنَ أَكَلَ رِزْقَهُ ، وَرِزْقُنَا عَلَى اللهِ تَعَالَى ، فَأَصْبَحُوا قُعُودًا ، فَاجْتَمَعَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُخْبِرُ بِمَنْ أَتَوْا إِلَيْهِ ، فَقَالَ جَهْجَاهٌ : فَحُلِبَ لِي سَبْعَةُ أَعْنُزٍ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا ، وَصُنِعَ بُرْمَةٌ فَأَتَيْتُ عَلَيْهَا ، فَصَلَّوْا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ ، فَقَالَ : لِيَأْخُذْ كُلٌّ مِنْكُمْ بِيَدِ جَلِيسِهِ فَلَمْ يَبْقَ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِي ، وَكُنْتُ عَظِيمًا طَوِيلًا لَا يُقَدَّمُ عَلَيَّ أَحَدٌ ، فَذَهَبَ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَحَلَبَ لِي عَنْزًا ، فَرُوِيتُ وَشَبِعْتُ ، فَقَالَتْ أُمُّ أَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَلَيْسَ هَذَا ضَيْفَنَا ؟ فَقَالَ : [بَلَى] فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ أَكَلَ فِي مِعَى مُؤْمِنٍ اللَّيْلَةَ ، وَأَكَلَ قَبْلَ ذَلِكَ فِي مِعَى كَافِرٍ ، وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ ، وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ .
2439 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، فَذَكَرَ الْمَتْنَ دُونَ الْقِصَّةِ .
ترجمہ

سیدنا جہجاہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنی قوم کے ایک وفد کے ساتھ اسلام قبول کرنے کے ارادے سے حاضر ہوئے، پس انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی؛ جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو ارشاد فرمایا: ”ہر آدمی اپنے پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص کا ہاتھ تھام لے (اور اسے ضیافت کے لیے لے جائے)۔“ چنانچہ مسجد میں رسول اللہ ﷺ اور میرے سوا کوئی باقی نہ رہا، اور میں ایک دراز قد اور تنو مند شخص تھا جس کی برابری کوئی نہیں کر سکتا تھا، پس رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے گھر لے گئے اور میرے لیے ایک بکری کا دودھ نکالا تو میں وہ پی گیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے میرے لیے یکے بعد دیگرے سات بکریوں کا دودھ نکالا اور میں وہ سب پی گیا، پھر میرے سامنے ہانڈی میں تیار شدہ کھانا لایا گیا تو میں نے وہ بھی کھا لیا، یہ دیکھ کر سیدہ امِ ایمن رضی اللہ عنہا نے (بطورِ تشویش) دعا کی: «أَجَاعَ اللهُ مَنْ أَجَاعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ» ”اللہ اسے بھوکا رکھے جس نے آج کی رات اللہ کے رسول ﷺ کو بھوکا رکھا۔“ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: «مَهْ يَا أُمَّ أَيْمَنَ أَكَلَ رِزْقَهُ ، وَرِزْقُنَا عَلَى اللهِ تَعَالَى» ”اے امِ ایمن! خاموش رہو (ایسا نہ کہو)، اس نے اپنا مقدر کا رزق کھایا ہے اور ہمارا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے۔“ اگلی صبح جب لوگ جمع ہوئے اور ہر شخص اپنے مہمان کے بارے میں بتانے لگا تو سیدنا جہجاہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میرے لیے سات بکریوں کا دودھ نکالا گیا جو میں پی گیا اور ہانڈی کا تیار کھانا بھی کھا گیا، پھر انہوں نے (اگلی رات) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی تو آپ ﷺ نے پھر وہی ارشاد فرمایا: ”تم میں سے ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھے شخص کا ہاتھ پکڑ لے۔“ پس مسجد میں رسول اللہ ﷺ اور میرے سوا کوئی نہ بچا، اور میں قوی ہیکل اور طویل قامت شخص تھا جس کے سامنے کوئی ٹھہر نہ سکتا تھا، پس رسول اللہ ﷺ مجھے اپنے گھر لے گئے اور میرے لیے ایک بکری کا دودھ نکالا تو میں اسے پی کر سیراب اور آسودہ ہو گیا، سیدہ امِ ایمن رضی اللہ عنہا نے (حیرت سے) عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ وہی ہمارا (کل والا) مہمان نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! (وہی ہے)۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اس نے آج کی رات ایک مومن کی آنت میں کھایا ہے، جبکہ اس سے پہلے اس نے کافر کی آنت میں کھایا تھا، اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے جبکہ مومن ایک ہی آنت میں کھاتا ہے۔“
امام ابو یعلیٰ نے فرمایا: ہمیں ابوبکر اور ابو کریب نے حدیث بیان کی، ان دونوں نے کہا: ہمیں زید بن حباب نے حدیث بیان کی، پھر انہوں نے قصے کے ذکر کے بغیر مذکورہ بالا متن بیان کیا۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأطعمة والأشربة / حدیث: 2439
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه مسند أبي يعلى برقم: 916، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2439 / 2، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 25038، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 2021، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 2152»