المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطب— طب اور علاج معالجے کا بیان۔
بَابُ الْأَمْرِ بالتداوي باب: علاج معالجہ کرنے کے حکم کا بیان۔
قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ تَدَاوَوْا ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى لَمْ يَخْلُقْ دَاءً إِلَّا وَقَدْ خَلَقَ لَهُ شِفَاءً إِلَّا السَّامَ " . وَالسَّامُ : الْمَوْتُ .
قُلْتُ : طَلْحَةُ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، ضَعِيفٌ ، وَقَدْ خَالَفَ فِي سَنَدِهِ وَمَتْنِهِ ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ ، مِنْ رِوَايَةِ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَلَفْظَةُ الْمَتْنِ : مَا أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَهُ ، وَلَا آخِرَهُ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم علاج معالجہ کیا کرو؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں فرمائی جس کے لیے شفا نہ پیدا کی ہو، سوائے سام کے۔“ اور سام سے مراد موت ہے۔
میں کہتا ہوں: اس روایت کی سند میں موجود راوی طلحہ بن عمرو ضعیف ہے، اور اس نے اس حدیث کی سند اور متن دونوں میں (دیگر ثقہ رواۃ کی) مخالفت کی ہے۔ اسے امام بخاری نے عمر بن سعید بن ابی حسین کی روایت سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جس کے متن کے الفاظ یہ ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نازل نہیں فرمائی جس کی شفا نازل نہ کی ہو۔“ اور امام بخاری نے اپنی روایت میں نہ اس حدیث کا ابتدائی حصہ ذکر کیا ہے اور نہ ہی آخری حصہ۔