المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ كثرة شرب الكافر لكونه لَا يذكر اسم اللَّهُ تَعَالَى باب: اللہ کا نام نہ لینے کے سبب کافر کے زیادہ پینے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ السَّامِيُّ ، ثَنَا حَمَّادٌ - هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ - ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ جُهَيْنَةَ لَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهُ وَلَا أَطْوَلَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَزْمَةٍ أَوْ أَزْلَةٍ أَصَابَتِ النَّاسَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ : تَوَزَّعُوهُمْ فَكَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ بِيَدِ الرَّجُلِ ، وَالرَّجُلُ يَأْخُذُ بِيَدِ الرَّجُلَيْنِ ، فَكَانَ الْقَوْمُ يَتَحَامَوْنَنِي لِمَا يَرَوْنَ مِنْ طُولِي وَعِظَمِي ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ، فَذَهَبَ بِي إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَحَلَبَ شَاةً ، فَشَرِبْتُ لَبَنَهَا ، ثُمَّ حَلَبَ أُخْرَى فَشَرِبْتُ لَبَنَهَا ، حَتَّى حَلَبَ لِي سَبْعًا ، قَالَ : فَذَهَبْتُ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَسْلَمْتُ ، ثُمَّ جِئْتُ فَحَلَبَ لِي شَاةً وَاحِدَةً ، فَشَبِعْتُ وَرَوِيتُ ، فَقُلْتُ : وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ مَا شَبِعْتُ قَطُّ وَلَا رَوِيتُ قَبْلَ الْيَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًى وَاحِدٍ ، وَالْكَافِرُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ .
هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ ، أَخْرَجَهُ أَحْمَدُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ الْأَخِيرِ مِنْهُ دُونَ الْقِصَّةِ بِطُولِهَا .سعید بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے قبیلہ جہینہ کے ایک شخص کو دیکھا، میں نے اس سے بڑھ کر ڈیل ڈول والا اور طویل قامت انسان کبھی نہیں دیکھا تھا؛ وہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں قحط سالی یا شدید معاشی تنگی کے دور میں حاضر ہوا جس نے لوگوں کو پریشان کر رکھا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا: ”ان لوگوں کو (میزبانی کے لیے) آپس میں بانٹ لو۔“ چنانچہ کوئی شخص ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ لیتا اور کوئی دو آدمیوں کا ہاتھ تھام لیتا، جبکہ لوگ میری طوالت اور غیر معمولی جسامت کو دیکھ کر مجھ سے کترانے لگے، تو رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے اپنے دولت کدے پر لے گئے۔ وہاں آپ ﷺ نے ایک بکری کا دودھ دوہا جسے میں نے پی لیا، پھر آپ ﷺ نے دوسری بکری کا دودھ نکالا وہ بھی میں پی گیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے میرے لیے مسلسل سات بکریوں کا دودھ دوہا (اور میں سب پی گیا)۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں چلا گیا اور جب اگلا دن ہوا تو میں نے اسلام قبول کر لیا، پھر میں دوبارہ حاضرِ خدمت ہوا تو آپ ﷺ نے میرے لیے صرف ایک بکری کا دودھ دوہا، جس سے میں پوری طرح سیر ہو گیا اور میری پیاس بجھ گئی۔ میں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آج سے پہلے کبھی اس طرح سیراب اور آسودہ نہیں ہوا تھا۔“ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مومن ایک ہی آنت میں پیتا ہے، جبکہ کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح ہے، امام احمد نے اسے اسی سند سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے مکمل طویل قصے کے بجائے صرف حدیث کا آخری حصہ ذکر کیا ہے۔