❮
❯
حدیث نمبر: 2435
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنِ الْحَضْرَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَجَرَ عَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ " ، قَالَ : " وَرَأَى رَجُلًا يَنْفُخُ فِي الشَّرَابِ ، ثُمَّ شَرِبَ قَائِمًا ، فَقَالَ : إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَقِيئَهُ فَقِئْهُ .
ترجمہ

سیدنا حضرمی رضی اللہ عنہ (جو کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے تھے) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مشروب یعنی پینے والی کسی بھی چیز میں پھونک مارنے سے سختی سے منع فرمایا ہے؛ نیز انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو مشروب میں پھونک مار رہا تھا اور پھر اس نے کھڑے ہو کر اسے پی لیا، تو آپ ﷺ نے اسے تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اگر تم اس بات کی استطاعت رکھتے ہو کہ اسے قے کر کے (جسم سے باہر) نکال دو تو اسے ضرور نکال دو۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے، تاہم اس کی سند میں موجود یوسف بن خالد بصری کو ائمہ جرح و تعدیل نے سخت ضعیف اور متروک قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأطعمة والأشربة / حدیث: 2435
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»