المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ آدَابِ الشرب باب: پینے کے آداب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2433
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْرَبُ يَوْمًا فَشَرِبَ فِي ثَلَاثَةِ أَنْفَاسٍ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ شَرِبْتَ الْمَاءَ فِي ثَلَاثَةِ أَنْفَاسٍ ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، هُوَ أَشْفَى وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک روز رسول اللہ ﷺ کو کچھ نوش فرماتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے اسے تین سانسوں میں پیا، تو میں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ نے پانی تین سانسوں میں پیا ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں، «أَشْفَى وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ» یعنی یہ طریقہ زیادہ شفاء بخش، زیادہ خوشگوار (خوب پیاس بجھانے والا) اور بیماری سے زیادہ محفوظ رکھنے والا ہے۔“
تخریج: اسے امام عبد بن حمید نے اپنی مسند (رقم: 2433) میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابراہیم بن حکم بن ابان نامی راوی ضعیف ہے۔