المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ آدَابِ الشرب باب: پینے کے آداب کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، أَخْبَرَنِي عَنْبَسَةُ ، عَنِ الْخَصِيبِ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : تَعَلَّلُوا بِالشَّاةِ فَإِنَّمَا هُوَ سُقْيَا اللهِ تَعَالَى ، وَإِذَا حَلَبْتُمُوهَا فَلَا تُجْهِدُوهَا ، وَدَعُوا دَاعِيَ اللَّبَنِ .سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم بکریوں کے ذریعے (اپنی معیشت اور غذا کا) سامان کیا کرو کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ سیرابی ہے، اور جب تم ان کا دودھ دوہو تو انہیں حد سے زیادہ مشقت میں نہ ڈالو اور (تھنوں میں) کچھ دودھ باقی رہنے دیا کرو جو (مزید) دودھ کو پکارنے والا (یعنی اسے کھینچ لانے والا) ہے۔“
اس حدیث کی سند میں خصیب بن جحدر نامی راوی ہے جسے ائمہ جرح و تعدیل نے کذاب اور متروک قرار دیا ہے، لہذا یہ روایت سخت ضعیف یا موضوع کے درجے میں آتی ہے، جیسا کہ علامہ البانی اور دیگر محققین نے اسے سلسلہ احادیثِ ضعیفہ میں ذکر کیا ہے۔