المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ آدَابِ الشرب باب: پینے کے آداب کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا [ مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ] ، ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [مَنْزِلًا] فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ امْرَأَةٌ مَعَ ابْنٍ لَهَا بِشَاةٍ ، فَحَلَبَ ثُمَّ [قَالَ] : انْطَلِقْ بِهِ إِلَى أُمِّكَ ، فَشَرِبَتْ حَتَّى رَوِيَتْ ، ثُمَّ جَاءَ بِشَاةٍ أُخْرَى ، فَحَلَبَ ، ثُمَّ سَقَى أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَ بِشَاةٍ أُخْرَى ، فَحَلَبَ ثُمَّ شَرِبَ .سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مقام پر فروکش ہوئے تو ایک خاتون نے اپنے بیٹے کے ہمراہ آپ ﷺ کی خدمت میں ایک بکری بھیجی، آپ ﷺ نے اس کا دودھ دوہا اور پھر اس لڑکے سے فرمایا: ”اسے لے کر اپنی والدہ کے پاس چلے جاؤ“، چنانچہ اس خاتون نے وہ دودھ نوش کیا یہاں تک کہ وہ سیراب ہوگئیں، پھر وہ لڑکا ایک اور بکری لے کر حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے اس کا دودھ دوہا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو پلایا، پھر وہ لڑکا ایک اور بکری لایا تو آپ ﷺ نے اس کا دودھ نکالا اور پھر خود نوش فرمایا۔
امام ابویعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ موجود ہیں جو اپنے حافظے کی وجہ سے محدثین کے ہاں کلام کیے گئے ہیں، تاہم ہجرت کے سفر میں پیش آنے والے اس نوعیت کے واقعات دیگر معتبر اسانید سے بھی ثابت ہیں۔