المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ التواضع فِي المأكول باب: کھانے پینے کے معاملات میں عاجزی اور انکساری اختیار کرنے کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ سَالِمٍ ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمُتَوَضَّأَ فَأَصَابَ لُقْمَةً أَوْ كِسْرَةً فِي مَجْرَى الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ، فَأَخَذَهَا ، فَأَمَاطَ عَنْهَا الْأَذَى ، وَغَسَلَهَا غَسْلًا نِعِمَّا ، ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى غُلَامِهِ ، فَقَالَ : يَا غُلَامُ ذَكِّرْنِي بِهَا إِذَا تَوَضَّأْتُ ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ قَالَ : نَاوِلْنِي اللُّقْمَةَ - أَوْ قَالَ : الْكِسْرَةَ - فَقَالَ : يَا مَوْلَايَ أَكَلْتُهَا ، قَالَ : اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللهِ ، فَقَالَ لَهُ الْغُلَامُ : يَا مَوْلَايَ لِأَيِّ شَيْءٍ أَعْتَقْتَنِي ؟ قَالَ : لِأَنِّي سَمِعْتُ أُمِّي فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْكُرُ عَنْ أَبِيهَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ وَجَدَ لُقْمَةً أَوْ كِسْرَةً فِي مَجْرَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ ، فَأَخَذَهَا أَمَاطَ عَنْهَا الْأَذَى وَغَسَلَهَا غَسْلًا نِعِمَّا ثُمَّ أَكَلَهَا لَمْ تَسْتَقِرَّ فِي بَطْنِهِ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ ، فَمَا كُنْتُ لِأَسْتَخْدِمَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ .
[ وَهْبٌ] هَذَا هُوَ أَبُو الْبَخْتَرِيِّ الْقَاضِي ، الْمَعْرُوفُ بِالْكَذِبِ وَوَضْعِ الْحَدِيثِ ، وَهَذَا الْحَدِيثُ مِمَّا افْتَرَاهُ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ فِي " الْمَوْضُوعَاتِ " وَكَشَفَ أَمْرَ هَذَا الْحَدِيثِ فَأَجَادَ .سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ بیت الخلا میں داخل ہوئے تو انہوں نے پیشاب و پاخانہ کے نالے میں ایک لقمہ یا روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا پایا، انہوں نے اسے اٹھا لیا اور اس سے گندگی کو دور کیا، پھر اسے بہت اچھی طرح دھویا اور اپنے غلام کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا: ”اے غلام! جب میں وضو سے فارغ ہو جاؤں تو مجھے یہ لقمہ یاد دلانا۔“ چنانچہ جب آپ وضو کر چکے تو فرمایا: ”مجھے وہ لقمہ یا روٹی کا ٹکڑا دو۔“ غلام نے عرض کیا: ”اے میرے آقا! وہ تو میں نے کھا لیا ہے۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جا، تو اللہ کی رضا کی خاطر آزاد ہے!“ غلام نے عرض کیا: ”اے میرے آقا! آپ نے مجھے کس بنیاد پر آزاد کیا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اس لیے کہ میں نے اپنی والدہ سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ کو اپنے والد رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ذکر کرتے ہوئے سنا ہے کہ: ”جس شخص نے پاخانہ یا پیشاب کی جگہ نالے میں کوئی لقمہ یا روٹی کا ٹکڑا پایا، پھر اسے اٹھا کر اس سے اذیت و گندگی دور کی اور اسے نہایت اچھی طرح دھو کر کھا لیا، تو وہ لقمہ ابھی اس کے پیٹ میں اچھی طرح ٹھہرا بھی نہ ہوگا کہ اس کی بخشش کر دی جائے گی“، اور میں یہ ہرگز پسند نہیں کرتا تھا کہ کسی ایسے شخص سے خدمت لوں جو اہل جنت میں سے ہو۔“
یہ راوی [وہب] دراصل ابو البختری قاضی ہے جو جھوٹ بولنے اور حدیثیں گھڑنے کے حوالے سے معروف ہے، اور یہ حدیث ان من گھڑت روایات میں سے ہے جو اس نے خود سے وضع کی ہیں، چنانچہ امام ابن جوزی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب ”الموضوعات“ میں ذکر کیا ہے اور اس حدیث کی حقیقت کو پوری طرح واضح کرتے ہوئے بہت عمدہ تحقیق پیش کی ہے۔