المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ الْفِطْرِ لِلصَّائِمِ المتطوع إِذَا دعي باب: اس باب میں اس نفل روزہ دار کے روزہ افطار کر لینے کے متعلق بیان ہے جسے کھانے کی دعوت دی گئی ہو۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : صَنَعَ رَجُلٌ [طَعَامًا وَدَعَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ فَقَالَ رَجُلٌ :] إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَخُوكَ صَنَعَ طَعَامًا وَدَعَاكَ ، أَفْطِرْ وَاقْضِي [يَوْمًا] مَكَانَهُ .
2424 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدٍ نَحْوَهُ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو مدعو کیا، تو (ان میں سے) ایک صاحب نے عرض کی: ”میں روزے سے ہوں۔“ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارے بھائی نے کھانا تیار کیا ہے اور تمہیں دعوت دی ہے، لہٰذا تم روزہ افطار کر لو اور اس کے بدلے میں کسی اور دن روزہ رکھ لینا۔“
امام طیالسی نے اسے محمد بن ابی حمید، انہوں نے ابراہیم بن عبید بن رفاعہ اور انہوں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جبکہ امام احمد بن منیع نے بھی حماد بن خالد کے واسطے سے محمد بن ابی حمید سے، انہوں نے ابراہیم بن عبید سے اسی کے مانند روایت نقل کی ہے۔