المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ مِنْ دعي إِلَى طعام فأراد إحضار وَاحِدٍ معه فليستأذن باب: دعوت میں کسی کو ساتھ لانے کے لیے میزبان سے اجازت لینے کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا صَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : أَتَأْذَنُ لِي فِي سَعْدٍ فَأَذِنَ لَهُ ، ثُمَّ صَنَعَ طَعَامًا ، فَقَالَ : أَتَأْذَنُ لِي فِي سَعْدٍ [فَأَذِنَ لَهُ ، ثُمَّ صَنَعَ طَعَامًا ، فَقَالَ : تَأْذَنُ فِي سَعْدٍ ] فَإِنَّهُ صَاحِبُكُمْ .ابومیسرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ ﷺ کو (کھانے کی) دعوت دی، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم مجھے سعد (کو ساتھ لانے) کی اجازت دیتے ہو؟“ اس شخص نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی۔ پھر اس نے دوبارہ کھانا تیار کیا تو آپ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا: ”کیا تم مجھے سعد کی اجازت دیتے ہو؟“ [تو اس شخص نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی، پھر اس نے (تیسری مرتبہ) کھانا تیار کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم سعد کے بارے میں اجازت دیتے ہو؟“] کیونکہ وہ تمہارا (دینی) بھائی اور ساتھی ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' اور امام احمد نے 'المسند' میں روایت کیا ہے۔