❮
❯
حدیث نمبر: 2422
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي مَيْسَرَةَ ، قَالَ : إِنَّ رَجُلًا صَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ ، فَقَالَ : أَتَأْذَنُ لِي فِي سَعْدٍ فَأَذِنَ لَهُ ، ثُمَّ صَنَعَ طَعَامًا ، فَقَالَ : أَتَأْذَنُ لِي فِي سَعْدٍ [فَأَذِنَ لَهُ ، ثُمَّ صَنَعَ طَعَامًا ، فَقَالَ : تَأْذَنُ فِي سَعْدٍ ] فَإِنَّهُ صَاحِبُكُمْ .
ترجمہ

ابومیسرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ ﷺ کو (کھانے کی) دعوت دی، تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تم مجھے سعد (کو ساتھ لانے) کی اجازت دیتے ہو؟“ اس شخص نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی۔ پھر اس نے دوبارہ کھانا تیار کیا تو آپ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا: ”کیا تم مجھے سعد کی اجازت دیتے ہو؟“ [تو اس شخص نے آپ ﷺ کو اجازت دے دی، پھر اس نے (تیسری مرتبہ) کھانا تیار کیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم سعد کے بارے میں اجازت دیتے ہو؟“] کیونکہ وہ تمہارا (دینی) بھائی اور ساتھی ہے۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام ابن ابی شیبہ نے 'المصنف' اور امام احمد نے 'المسند' میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الأطعمة والأشربة / حدیث: 2422
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، مرسل
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرسل، إسناده صحيح. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»