المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ الخبيص باب: خبیص (ایک خاص قسم کے لذیذ حلوے جو آٹے، گھی اور کھجور سے تیار کیا جاتا ہے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 2421
[ وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثَنَا الْهَيْثَمُ] بْنُ عِمْرَانَ : حَدَّثَنِي جَدِّي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللهِ قَالَ : صَنَعَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَبِيصًا بِالْعَسَلِ وَالسَّمْنِ وَالْبُرِّ ، فَأَتَى بِهِ فِي قَصْعَةٍ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا يَا نَبِيَّ اللهِ شَيْءٌ تَصْنَعُهُ الْأَعَاجِمُ مِنَ الْبُرِّ وَالْعَسَلِ وَالسَّمْنِ تُسَمِّيهِ الْخَبِيصَ ، قَالَ : فَأَكَلَ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن ابی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے شہد، دیسی گھی اور گندم سے ایک حلوہ (خبیص) تیار کیا، پھر وہ اسے ایک بڑے پیالے میں رکھ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں لائے تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! یہ ایک ایسی چیز ہے جسے عجمی لوگ گندم، شہد اور گھی سے تیار کرتے ہیں اور وہ اسے خبیص پکارتے ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اسے تناول فرمایا۔
[مسند الحارث: 2421، اس حدیث کی سند میں ہیثم بن عمران موجود ہے جو کہ مستور الحال راوی ہے]۔