المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ النخيل باب: کھجور کے درختوں کی فضیلت و برتری کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، ثَنَا مَسْرُورُ بْنُ سَعِيدٍ التَّيْمِيُّ ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْرِمُوا عَمَّتَكُمُ النَّخْلَةَ فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الطِّينِ الَّذِي خُلِقَ مِنْهُ آدَمُ ، وَلَيْسَ مِنَ الشَّجَرِ [شَيْءٌ] يُلَقَّحُ غَيْرُهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَطْعِمُوا نِسَاءَكُمُ الْوُلَّدَ الرُّطَبَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رُطَبٌ فَالتَّمْرُ ، وَلَيْسَ [شَيْءٌ] مِنَ الشَّجَرِ أَكْرَمَ عَلَى اللهِ مِنْ شَجَرَةٍ نَزَلَتْ تَحْتَهَا مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی پھوپھی یعنی کھجور کے درخت کی تعظیم و توقیر کیا کرو، کیونکہ اس کی تخلیق اس مٹی سے ہوئی ہے جس سے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا تھا، اور درختوں میں سے کوئی بھی درخت ایسا نہیں ہے جس کی (مصنوعی طور پر) پیوند کاری (یعنی نر مادہ کا ملاپ) کی جاتی ہو سوائے اس کے۔“ نیز رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی زچہ عورتوں (جنہوں نے حال ہی میں بچہ جنا ہو) کو تازہ پکی ہوئی کھجوریں کھلایا کرو، اور اگر تازہ کھجوریں میسر نہ ہوں تو پھر خشک کھجوریں ہی سہی؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک درختوں میں کوئی بھی درخت اس درخت سے زیادہ محترم و مکرم نہیں ہے جس کے نیچے مریم بنت عمران علیہا السلام نے قیام فرمایا تھا۔“
اس روایت کی سند میں مسرور بن سعید التیمی راوی ضعیف ہے، جس کی وجہ سے محدثین کے نزدیک یہ حدیث سندا ضعیف ہے۔