المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ آدَابِ الأكل باب: کھانے کے آداب کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، ثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ الْعُكْلِيُّ ، ثَنَا فَائِدٌ مَوْلَى عَبَادِلَ ، حَدَّثَنِي مَوْلَايَ عُبَيْدُ اللهِ - هُوَ ابْنُ أَبِي رَافِعٍ - عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ رَافِعٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : عَمِلْتُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَزِيرَةً ، فَجَاءَ وَمَعَهُ رَجُلَانِ فَقَرَّبَتْهَا إِلَيْهِمَا فَمَرَّ أَعْرَابِيٌّ فَدَعَاهُ [رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] إِلَى الطَّعَامِ فَأَخَذَهَا بِلُقْمَةٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " [ ضَعْهَا] وَاذْكُرِ اسْمَ [اللهِ تَعَالَى] وَكُلْ ، قَالَ : فَأَكَلَ وَشَبِعَ وَفَضَلَ مِنْهَا .
2410 \ 2 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ - هُوَ الْمُقَدَّمِيُّ - ثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثَنَا فَائِدٌ مَوْلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ جَدَّتِهِ [ سَلْمَى] مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، [أَنَّهَا] أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَزِيرَةً ، فَقَرَّبَتْهَا إِلَيْهِ فَأَكَلَهَا وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَبَقِيَ مِنْهَا فَضْلَةٌ ، فَمَرَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخَذَهَا الْأَعْرَابِيُّ بِيَدِهِ كُلَّهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ : ضَعْهَا . فَوَضَعَهَا ، فَقَالَ لَهُ : قُلْ : بِاسْمِ اللهِ ، وَخُذْ مِنْ أَدْنَاهَا ، قَالَتْ : فَشَبِعَ مِنْهَا وَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ .سیدہ ام رافع رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے "خزیرہ" (گوشت اور آٹے سے تیار کردہ مخصوص کھانا) تیار کیا، آپ ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ کے ساتھ دو اور آدمی بھی تھے، میں نے وہ کھانا ان کے سامنے پیش کر دیا، اتنے میں ایک دیہاتی وہاں سے گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بھی کھانے کی دعوت دی، اس نے ایک ہی لقمے میں (سب کچھ) سمیٹنا چاہا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے (واپس) رکھو، اللہ تعالیٰ کا نام لو اور کھاؤ۔“ راویہ بیان کرتی ہیں کہ پھر اس نے کھایا، وہ سیر ہو گیا اور کھانا پھر بھی بچ گیا۔
سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا (جو نبی کریم ﷺ کی آزاد کردہ لونڈی تھیں) سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے خزیرہ تیار کر کے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، آپ ﷺ نے اپنے چند صحابہ کے ہمراہ اسے تناول فرمایا، ابھی کچھ کھانا بچا ہوا تھا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک دیہاتی گزرا تو آپ ﷺ نے اسے (کھانے کے لیے) بلا لیا، اس دیہاتی نے وہ تمام کھانا اپنے ہاتھ سے ایک ساتھ ہی پکڑ لیا، اس پر نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اسے رکھ دو۔“ چنانچہ اس نے وہ رکھ دیا، پھر آپ ﷺ نے اسے ہدایت فرمائی: ”کہو: «بِاسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ اور اس کے قریبی حصے سے کھاؤ۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ اس نے سیر ہو کر کھایا اور اس کے بعد بھی کچھ کھانا بچ گیا تھا۔