المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأطعمة والأشربة— کھانے پینے کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ آدَابِ الأكل باب: کھانے کے آداب کا بیان۔
وَقَالَ أَيْضًا : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ] ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ امْرَأَةٍ قَالَتْ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِوَطْبَةٍ فَأَخَذَهَا أَعْرَابِيٌّ بِثَلَاثِ لُقَمٍ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَمَا إِنَّهُ لَوْ قَالَ : بِاسْمِ اللهِ لَوَسِعَتْهُمْ ، وَقَالَ : " إِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمُ اسْمَ اللهِ عَلَى طَعَامِهِ فَلْيَقُلْ إِذَا ذَكَرَ : بِاسْمِ اللهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ .سیدنا عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ ایک صحابیہ خاتون سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمتِ اقدس میں ’وطبہ‘ (پنیر، کھجور اور گھی سے تیار کردہ کھانا) کا ایک برتن پیش کیا گیا، جسے ایک دیہاتی نے (اتنی تیزی سے کھایا کہ) محض تین لقموں میں ختم کر دیا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”آگاہ رہو! اگر اس نے (کھانے سے پہلے) «بِاسْمِ اللهِ» ”اللہ کے نام کے ساتھ“ کہہ لیا ہوتا تو یہ کھانا ان تمام حاضرین کے لیے کافی ہو جاتا۔“ نیز آپ ﷺ نے یہ ہدایت بھی فرمائی: ”جب تم میں سے کوئی شخص اپنے کھانے پر اللہ کا نام لینا (بسم اللہ پڑھنا) بھول جائے، تو جب بھی اسے یاد آئے اسے یہ کہنا چاہیے: «بِاسْمِ اللهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ» ”اللہ کے نام کے ساتھ، اس کے شروع میں بھی اور اس کے آخر میں بھی۔““
اس حدیث کی سند جید اور متن صحیح ہے۔