کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لئے کیا تیار کیا ہے ؟ اس کا تذکرہ
حدیث نمبر: 18727
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : مَا حَوْضُكَ الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْهُ ؟ قَالَ : " كَمَا بَيْنَ الْبَيْضَاءِ إِلَى بُصْرَى ، يُمِدُّنِي اللَّهُ فِيهِ بِكُرَاعٍ ، لَا يَدْرِي إِنْسَانٌ [ مِمَّنْ ] خُلِقَ أَيْنَ طَرَفَاهُ ؟ " . فَكَبَّرَ عُمَرُ ، فَقَالَ : " أَمَّا الْحَوْضُ فَيَرِدُ عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَيَمُوتُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ يُورِدَنِي الْكُرَاعَ فَأَشْرَبَ مِنْهُ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، ثُمَّ يَشْفَعُ كُلُّ أَلْفٍ لِسَبْعِينَ أَلْفًا ، ثُمَّ يَحْثِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِكَفَّيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ " . فَكَبَّرَ عُمَرُ ، وَقَالَ : " إِنَّ السَّبْعِينَ الْأُولَى يُشَفِّعُهُمُ اللَّهُ فِي آبَائِهِمْ ، وَأَبْنَائِهِمْ ، وَعَشَائِرِهِمْ ، وَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَنِي اللَّهُ فِي إِحْدَى الْحَثَيَاتِ الْأَوَاخِرِ . فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فِيهَا فَاكِهَةٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ . وَفِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى ، طَابِقُ الْفِرْدَوْسِ " ، فَقَالَ : أَيُّ شَجَرِ أَرْضِنَا تُشْبِهُ ؟ قَالَ : " لَيْسَ تُشْبِهُ شَيْئًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ ، وَلَكِنْ أَتَيْتَ الشَّامَ ؟ " . قَالَ : لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَإِنَّهَا تُشْبِهُ شَجَرَةً بِالشَّامِ تُدْعَى الْجَوْزَةَ ، تَنْبُتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ يَنْتَشِرُ أَعْلَاهَا " . ¤ قَالَ : فَمَا عُظْمُ أَصْلِهَا ؟ قَالَ : " لَوِ ارْتَحَلَتْ جَذَعَةٌ مِنْ إِبِلِ أَهْلِكَ لَمَا قَطَعَتْهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ تَرْقُوَتُهَا هَرَمًا " . قَالَ : فِيهَا عِنَبٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : مَا عُظْمُ الْعُنْقُودِ فِيهَا ؟ . قَالَ : " مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِلْغُرَابِ الْأَبْقَعِ ، لَا يَنْثَنِي وَلَا يَفْتُرُ " . قَالَ : فَمَا عُظْمُ الْحَبَّةِ مِنْهُ ؟ قَالَ : " هَلْ ذَبَحَ أَبُوكَ تَيْسًا مِنْ غَنَمِهِ عَظِيمًا ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَسَلَخَ إِهَابَهَا فَأَعْطَاهُ أُمَّكَ ، فَقَالَ : ادْبَغِي هَذَا ، ثُمَّ أَفْرِي لَنَا مِنْهُ ذَنُوبًا نَرْوِي [ بِهِ ] مَاشِيَتَنَا ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " فَإِنَّ تِلْكَ الْحَبَّةَ تُشْبِعُنِي وَأَهْلَ بَيْتِي ؟ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَامَّةَ عَشِيرَتِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَفِي الْكَبِيرِ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُمَا ، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ الْبَكَالِيُّ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے کہا: وہ حوض کیا ہے ؟ جس کے بارے میں آپ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( وہ اتنا بڑا ہے ) جتنا بیضاء سے لے کر بصریٰ تک کا درمیانی فاصلہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے حوالے سے مجھ پر یہ فضل کیا کہ وہ اتنا بڑا ہے کہ آدمی یہ اندازہ نہیں کر سکتا کہ اس کے دونوں کنارے کہاں تخلیق ہوئے ہیں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک حوض کا تعلق ہے ، تو اس پر غریب مہاجرین آئیں گے ، جنہوں نے اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیا ہو گا اور جو اللہ کی راہ میں انتقال کر گئے ہوں گے ، مجھے یہ امید ہے اس میں آسمان سے پانی نازل ہو گا اور میں اس میں سے پیوں گا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا ، اور پھر ان میں سے ہر ایک ہزار لوگ ، مزید ستر ہزار لوگوں کی شفاعت کریں گے ، پھر میرا پروردگار دونوں ہتھیلیاں ملا کر تین مرتبہ ( میری امت کے لوگوں کو جہنم سے نکالے گا ) ۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور یہ کہا: پہلے والے ستر ہزار لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے آباؤ اجداد ، ان کے بیٹوں اور ان کے خاندان کے افراد کے بارے میں شفاعت کرنے کی اجازت دے گا ، اور مجھے یہ امید ہے کہ وہ مجھے بعد والے تین لپوں ( یعنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر نکالنے ) میں شامل کرے گا ۔ دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا اس میں پھل ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس میں ایک درخت ہو گا جس کا نام طوبیٰ ہے اور طابق الفردوس ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : وہ ہماری زمین کے کون سے درخت کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تمہارے علاقے کے کسی درخت کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتا ، کیا تم شام گئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ شام میں موجود ایک درخت کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ، جس کا نام ” جوزہ “ ہے ، وہ ایک ہی تنے پر کھڑا ہوتا ہے اور پھر اس کا بالائی حصہ پھیل جاتا ہے ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : اس کی جڑ کتنی بڑی ہو گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے گھر کا اونٹ کا بچہ ( اس کے نیچے چلنا شروع کرے ) تو وہ اس کو پار نہیں کر سکے گا ، اس سے پہلے ہی وہ بوڑھا ہو کے مر جائے گا ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : کیا جنت میں انگور ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : اس کے گچھے کتنے بڑے ہوں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک کوا ، جو مسلسل ایک ماہ تک اڑتا رہے ، اس دوران وہ وقفہ نہ کرے ۔ اس نے دریافت کیا : اس کا بیج ( یا ایک دانہ ) کتنا بڑا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے باپ نے اپنی بکریوں میں سے کوئی بڑا نر جانور ذبح کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر اس نے اس جانور کی کھال اتار کر وہ تمہاری ماں کو دے دی ہو ، اور یہ کہا: ہو : تم اس کی دباغت کر کے اس کے ذریعے ڈول بنا لو ، تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنے جانوروں کو پانی پلا دیا کریں ، اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا: تو وہ ایک دانہ ، مجھے اور میرے اہل خانہ کو سیر کر دے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلکہ تمہارے خاندان کے زیادہ تر افراد کو بھی ( وہ ایک دانہ سیر کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، انہوں نے معجم کبیر میں اور امام أحمد نے بھی اس روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عامر بن بکالی ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18727
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 18728
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ فَذَهَبْتُ أَتَنَاوَلُ مِنْهَا قِطْفًا أُرِيكُمُوهُ فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مَثَلُ الْحَبَّةِ مِنَ الْعِنَبِ ؟ قَالَ : " كَأَعْظَمِ دَلْوٍ فَرَتْ أُمُّكَ قَطُّ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا ، میں اس میں سے ایک گچھہ پکڑنے لگا تاکہ وہ تمہیں دکھاؤں ، تو میرے اور اس کے درمیان رکاوٹ آ گئی ، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انگور کا ایک دانہ کیسا ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس سب سے بڑے ڈول کی مانند ہو گا جو تمہاری ماں نے کبھی تیار کیا ہو ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18728
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1147)»
حدیث نمبر: 18729
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً مُسْتَقِلَّةً عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ ، عَرْضُ سَاقِهَا ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ [ سَنَةٍ ] " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں ایک درخت ہو گا جو ایک تنے پر کھڑا ہو گا اور اس کے تنے کی چوڑائی 72 سال ( کی مسافت جتنی ) ہو گی ۔ “
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور طبرانی کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18729
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3529)»
حدیث نمبر: 18730
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَسْمَعُكَ تَذْكُرُ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً لَا أَعْلَمُ أَكْثَرَ شَوْكًا مِنْهَا - يَعْنِي الطَّلْحَ - . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَجْعَلُ مَكَانَ كُلِّ شَوْكَةٍ مِنْهَا خَصْوَةَ التَّيْسِ الْمَلْبُودِ - يَعْنِي الْخَصِيَّ - مِنْهَا سَبْعُونَ لَوْنًا مِنَ الطَّعَامِ ، لَا يُشْبِهُ لَوْنٌ آخَرَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک دیہاتی آ گیا ۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو جنت میں ایک درخت کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اور میرے علم کے مطابق کسی اور درخت میں اس سے زیادہ کانٹے نہیں ہوتے ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ” طلح “ ( نامی کانٹے دار درخت ) تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کے ہر ایک کانٹے کی جگہ اس پر ، ایسا پھل لگا دے گا جو نر جانور کے ایسے خصیوں جیسا ہو گا جن پر بال موجود ہوں ، اس ( پھل ) میں 70 مختلف قسم کے کھانے کی چیز ( یا ذائقہ ) ہو گا ، جن میں سے ہر ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18730
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (130/17)»
حدیث نمبر: 18731
وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا نَزَعَ ثَمَرَةً مِنَ الْجَنَّةِ عَادَتْ مَكَانَهَا أُخْرَى " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عِيدَ فِي مَكَانِهَا مِثْلَاهَا ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب آدمی جنت کا کوئی پھل اتارے گا تو اس کی جگہ دوسرا پھیل آ جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس کی جگہ ، اس کی مانند دو گنا ( پھل آ جائے گا ) ۔ “ طبرانی کے رجال اور ہزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18731
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3530) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1449)»
حدیث نمبر: 18732
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ [ الْجَوَادَ ] فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ ، وَإِنَّ وَرَقَهَا لَيُخَمِّرُ الْجَنَّةَ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ : " وَإِنَّ وَرَقَهَا لَيُخَمِّرُ الْجَنَّةَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں ایسا درخت ہو گا کہ تیز رفتار سوار اُس کے سائے میں ایک سو سال تک چلتا رہے گا ، اور اس کا ایک پتہ جنت کو ڈھانپ لے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : اس کا پتہ جنت کو ڈھانپ لے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18732
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (44/2)»
حدیث نمبر: 18733
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ طَيْرَ الْجَنَّةِ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ ، تَرْعَى فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذِهِ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ ! فَقَالَ : " أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا - قَالَهَا ثَلَاثًا - وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مِمَّنْ يَأْكُلُ مِنْهَا [ يَا أَبَا بَكْرٍ ] " . قُلْتُ : رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَيَّارِ بْنِ حَاتِمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت کے پرندے بختی ( اونٹوں ) کی مانند ہوں گے اور وہ جنت کے درختوں میں سے کھائیں گے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ یہ تو نعمت ( میں رہنے ) والے پرندے ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُن کو کھانے والے ، اُن سے زیادہ نعمت میں ہوں گے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، اور پھر یہ فرمایا : مجھے یہ امید ہے اے ابوبکر ! کہ تم اُن کو کھانے والوں میں سے ایک ہو گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سیار بن حاتم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18733
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (221/3)»
حدیث نمبر: 18734
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكَ لَتَنْظُرُ إِلَى الطَّيْرِ فِي الْجَنَّةِ فَتَشْتَهِيهِ فَيَجِيءُ مَشْوِيًّا بَيْنَ يَدَيْكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ عَطَاءٍ الْأَعْرَجُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں تم کسی پرندے کی طرف دیکھو گے ، تمہیں اس کی طلب محسوس ہو گی ، تو وہ بھنا ہوا تمہارے سامنے آ جائے گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید بن عطاء اعرج ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18734
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3532)»