کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس کا بیان ، جو جنت میں حساب کے بغیر داخل ہو گا
حدیث نمبر: 18692
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَكْثَرْنَا الْحَدِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ ، ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأُمَمِهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ النَّفَرُ ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ ، حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ كَبْكَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَأَعْجَبُونِي فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَقِيلَ : هَذَا أَخُوكَ مُوسَى مَعَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ " . ¤ قَالَ : " فَقُلْتُ : فَأَيْنَ أُمَّتِي ؟ فَقِيلَ لِي : انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ ، فَقِيلَ لِي : أَرَضِيتَ ؟ فَقُلْتُ : رَضِيتُ ، رَبِّ " . قَالَ : " فَقِيلَ لِي : إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فِدًى لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي ، إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ الْأَلْفِ فَافْعَلُوا ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الضِّرَابِ ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ " . فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنَ السَّبْعِينَ ، فَدَعَا لَهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ " . ¤ ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا : مَنْ تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ الْأَلْفَ ؟ فَقَالَ : قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا حَتَّى مَاتُوا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَالْبَزَّارُ أَتَمُّ مِنْهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کافی دیر تک بات چیت کرتے رہے ، اگلے دن جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : گزشتہ رات میرے سامنے انبیاء اور ان کی امتیں پیش کیے گئے کوئی نبی گزرا ، اس کے ساتھ تین افراد تھے ، کوئی گزرا اُس کے ساتھ ایک جماعت تھی ، کسی کے ساتھ زیادہ تعداد تھی ، کسی کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا ، یہاں تک کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام میرے پاس سے گزرے تو ان کے ساتھ بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت تھی ، وہ مجھے اچھی لگی ، میں نے کہا: یہ کون ہے ؟ تو بتایا گیا : یہ آپ کے بھائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں ، میں نے کہا: میری امت کہاں ہے ؟ تو مجھ سے کہا: گیا : آپ اپنے دائیں طرف دیکھیے ، جب میں نے دیکھا تو لوگوں کے چہروں سے افق بھر چکا تھا ، مجھ سے کہا: گیا : آپ اپنے بائیں طرف دیکھیے ، میں نے دیکھا تو لوگوں کے چہروں کے ذریعے افق بھر چکا تھا ، مجھے کہا: گیا : کیا آپ راضی ہو گئے ہیں ؟ میں نے کہا: اے میرے پروردگار ! میں راضی ہو گیا ہوں ، تو مجھ سے کہا: گیا : ان لوگوں کے ہمراہ ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے ماں باپ تم لوگوں پر قربان ہوں ، اگر تم سے ہو سکے تو تم ان ستر ہزار افراد میں شامل ہونا اور اگر تم کوتاہی کے مرتکب ہو جاؤ تو اہل ظراب ( ٹیلے والوں ) میں شامل ہو جانا اور اگر تم مزید کوتاہی کے مرتکب ہو جاؤ تو تم افق والے لوگوں میں شامل ہو جانا ، کیونکہ میں نے وہاں لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ بہت زیادہ تعداد میں تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ستر ہزار افراد میں شامل کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کر دی ، پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم اس بارے میں بات چیت کرنے لگے کہ وہ ستر ہزار لوگ کون ہوں گے ؟ کچھ کا کہنا تھا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو زمانہ اسلام میں پیدا ہوئے اور پھر انہوں نے مرتے دم تک کسی کو اللہ کا شریک قرار نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ نہیں لگاتے ہوں گے ، جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہوں گے ، فال نہیں نکالتے ہوں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کو اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے اسے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے امام أحمد اور امام بزار کی مختلف اسانید میں سے ، ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کو اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے اسے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے امام أحمد اور امام بزار کی مختلف اسانید میں سے ، ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18693
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى آخِرِ الْوَقْتِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى ، ثُمَّ قَالَ : " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنَّ الْأُمَمَ عُرِضَتْ عَلَيَّ ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجِيءُ فِي خَمْسَةٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَرَأَيْتُ جَمَاعَةً كَثِيرَةً فَقُلْتُ : إِنَّهَا أُمَّتِي ؟ فَقِيلَ : هَذِهِ أُمَّةُ مُوسَى . وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَبْيَضَ جَعْدًا ، يَضْرِبُ إِلَى الْحُمْرَةِ ، وَرَأَيْتُ - وَذَكَرَ كَلَامًا كَأَنَّ مَعْنَاهُ عَدَدٌ كَثِيرٌ - فَقِيلَ : إِنَّهَا أُمَّتُكَ ، وَقِيلَ : إِنَّ لَكَ مَعَهُمْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ " . ¤ فَقَالَ عُكَاشَةُ الْأَسَدِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنِي فِي هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ ، فَقَالَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ " . فَقَالَ آخَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ " . فَقَالَ الْقَوْمُ : مَنْ تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَنْ رَقَّ قَلْبُهُ لِلْإِسْلَامِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : قَوْمٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَمْ يُشْرِكُوا ، أَوْ لَمْ يَعْبُدُوا شَيْئًا إِلَّا اللَّهَ . وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ ؟ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، السَّبْعِينَ الَّذِينَ ذَكَرْتَ مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : عُمَرَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز آخری وقت تک مؤخر کر دی ، پھر آپ تشریف لائے ، آپ نے نماز پڑھائی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں ، کوئی نبی پانچ افراد کے ساتھ آیا ، کوئی اس سے زیادہ کے ساتھ تھا ، پھر میں نے ایک بڑی جماعت کو دیکھا تو میں نے سوچا یہ میری امت ہو گی ، تو بتایا گیا : یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے ، پھر میں نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھا ، وہ سفید رنگت کے سیدھے بالوں کے مالک شخص تھے ، ان کا رنگ سرخی مائل تھا ، اور میں نے دیکھا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد ایسے الفاظ ہیں ، جن کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ میں نے ایک بڑی تعداد کو دیکھا ، تو بتایا گیا : یہ آپ کی امت ہے ، اور یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے ہمراہ قیامت میں ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ “ تو سیدنا عکاشہ اسدی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے ان ستر ( ہزار ) لوگوں میں شامل کروا دیں ( یعنی میرے لیے اس بارے میں دعا کریں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان میں سے ایک ہو ، ایک اور صاحب بولے : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ان میں شامل کروا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے ۔ حاضرین نے ( بعد میں ایک دوسرے سے ) کہا: آپ لوگوں کی کیا رائے ہے کہ یہ ستر ہزار لوگ کون ہوں گے ؟ کسی نے کہا: یہ وہ ہوں گے جن کا دل اسلام کے لیے نرم ہو گا ، بعض نے کہا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو مومنین ہوں گے اور انہوں نے کبھی شرک نہیں کیا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کی ہو گی ، اُن لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : یہ آوازیں کس وجہ سے تھیں ؟ لوگوں نے بتایا : یا رسول اللہ ! ہم ان ستر ہزار لوگوں کا ذکر کر رہے تھے کہ وہ کون ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ نہیں لگائیں گے اور جھاڑ پھونک نہیں کریں گے اور فال نہیں نکالیں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کریں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمر بن اسماعیل بن مجالد کے حوالے سے نقل کی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمر بن اسماعیل بن مجالد کے حوالے سے نقل کی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔
حدیث نمبر: 18694
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ : " إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - خَيَّرَنِي بَيْنَ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَبَيْنَ الْخَبِيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي " . فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُخَبِّئُ ذَلِكَ رَبُّكَ ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجَ ، وَهُوَ يُكَبِّرُ، فَقَالَ : " إِنَّ رَبِّي زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا ، وَالْخَبِيئَةُ عِنْدَهُ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي الشَّفَاعَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ان سے فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے اس بارے میں اختیار دیا ہے کہ ستر ہزار لوگ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہو جائیں ، یا پھر میری اُمت کے لئے پروردگار کے پاس ایک چیز ( یعنی شفاعت ) سنبھال کے رکھی جائے ، آپ کے اصحاب میں سے کسی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کا پروردگار اسے سنبھال کے رکھے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے ، پھر آپ باہر تشریف لائے اور آپ تکبیر کہہ رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے ، اُن میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ ، مزید 70 ہزار بھی عطا کئے ہیں ، اور اپنے پاس سنبھال کے رکھی ہوئی چیز ( یعنی شفاعت ) بھی عطا کی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو شفاعت سے متعلق باب میں مذکور ہے ،
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18695
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْطَأَ ذَاتَ لَيْلَةٍ عَنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، حَتَّى ذَهَبَ هَوْيًا مِنَ اللَّيْلِ ، حَتَّى نَامَ بَعْضُ مَنْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَخَرَجَ وَالنَّاسُ بَيْنَ نَائِمٍ ، وَبَيْنَ مُصَلٍّ مُنْتَظِرٍ لِلصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرُوهَا ، لَوْلَا ضَعْفُ الْكَبِيرِ ، وَبُكَاءُ الصَّغِيرِ ، لَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى عَتَمَةٍ مِنَ اللَّيْلِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ " . قَالَ : وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَذَاكَرْنَا السَّبْعِينَ بَيْنَنَا ، أَتُرَاهُمُ الشُّهَدَاءَ ؟ فَقَالَ بَعْضُنَا : هُمُ الشُّهَدَاءُ ، وَقَالَ بَعْضُنَا : هُمُ الْمُؤْمِنُونَ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا تَذَاكَرُونَ ؟ " . فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ : " هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرِقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر کر دی ، یہاں تک کہ رات کا ایک بڑا حصہ رخصت ہو گیا ، یہاں تک کہ مسجد میں موجود بعض لوگ سو گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو کچھ لوگ سو رہے تھے اور کچھ نماز ادا کر رہے تھے اور وہ سب نماز کے منتظر تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگ جب تک نماز کے منتظر رہتے ہیں وہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتے ہیں ، اگر بڑی عمر کے لوگوں کی کمزوری اور بچوں کے رونے کا خیال نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز کو رات کا ایک حصہ گزرنے تک مؤخر کر دیتا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ستر ہزار ایسے لوگ داخل ہوں گے ، جن سے حساب نہیں لیا جائے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے ، جب آپ گھر تشریف لے گئے ، تو ہم آپس میں بیٹھ کر ان ستر ہزار لوگوں کے بارے میں بات کرنے لگے کہ کیا وہ لوگ شہداء ہوں گے ؟ کچھ کا کہنا تھا : وہ شہداء ہوں گے ، کچھ کا کہنا تھا : وہ لوگ مومنین ہوں گے ، اسی دوران ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیا گفتگو کر رہے ہو ؟ ہم نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ وہ لوگ ہوں گے ، جو داغ نہیں لگاتے ہوں گے ، جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہوں گے ، فال نہیں نکالتے ہوں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے ۔ “ ”
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18696
وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ ، وَعَلَيْهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ ، فَلَمْ يَعُدْهُ ، فَدَخَلَ عَلَى ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنَ الْكَلَاعِيِّينَ عَائِدًا ، فَقَالَ لَهُ ثَوْبَانُ : أَتَكْتُبُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ : اكْتُبْ ، فَكَتَبَ لِلْأَمِيرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ : مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَّا بَعْدُ : فَلَوْ كَانَ لِمُوسَى وَعِيسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - مَوْلًى بِحَضْرَتِكَ لَعُدْتُهُ . ثُمَّ طَوَى الْكِتَابَ وَقَالَ لَهُ : أَبْلِغْهُ إِيَّاهُ ، قَالَ : نَعَمْ . فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِكِتَابِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى ابْنِ قُرْطٍ ، فَلَمَّا قَرَأَهُ قَامَ فَزِعًا ، فَقَالَ النَّاسُ : مَا لَهُ ؟ أَحَدَثَ أَمْرٌ ؟ فَأَتَى ثَوْبَانَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَعَادَهُ ، وَجَلَسَ عِنْدَهُ سَاعَةً ، ثُمَّ قَامَ ، فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِهِ، وَقَالَ : اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
شریح بن عبید بیان کرتے ہیں : ” حمص “ میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے اس شہر کا گورنر عبداللہ بن قرط ازدی تھا ، وہ اُن کی عیادت کے لیے نہیں آیا ، ایک مرتبہ کلاعیین میں سے دو افراد سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے آئے تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا تم لکھ سکتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لکھو ! پھر انہوں نے گورنر عبداللہ بن قرط کے لیے یہ تحریر لکھوائی : ” یہ اللہ کے رسول کے غلام ، ثوبان کی طرف سے ہے ، امابعد ! اگر تمہارے علاقے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام ، یا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی غلام ہوتا تو تم نے اس کی عیادت کر لینی تھی ۔ “ پھر انہوں نے تحریر کو لپیٹ دیا اور اس سے فرمایا : تم یہ گورنر تک پہنچا دینا ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر وہ شخص اس مکتوب کو لے کر گیا اور اس نے گورنر کے حوالے وہ کیا ، جب گورنر نے اسے پڑھا تو وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا ، لوگوں نے دریافت کیا : اس کو کیا ہوا ہے ؟ کیا کوئی نئی صورتحال سامنے آئی ہے ؟ گورنر ، سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، ان کی عیادت کی اور ان کے پاس گھڑی بھر بیٹھا رہا ، جب وہ اُٹھنے لگا تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس کی چادر پکڑ لی اور یہ فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! تاکہ میں تمہیں وہ حدیث سناؤں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے ستر ہزار لوگ جنت میں یوں داخل ہوں گے کہ اُن سے حساب لیا جائے گا ، اور نہ انہیں کوئی عذاب ہو گا اور ان میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ مزید ستر ہزار ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 18697
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ " . فَقَامَ عُكَاشَةُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ " . فَسَكَتَ الْقَوْمُ ، ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : لَوْ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْهُمْ . قَالَ : " سَبَقَكُمْ بِهَا عُكَاشَةُ وَصَاحِبُهُ ، أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ قُلْتُمْ لَقُلْتُ ، وَلَوْ قُلْتُ لَوَجَبَتْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَمَحْمُودُ بْنُ بَكْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کے ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، یوں کہ ان سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا ، سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : تو اس کو اُن میں شامل کر دے ! حاضرین خاموش ہو گئے ، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : اگر ہم بھی یہ کہتے : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں ان میں شامل کر دے تو یہ مناسب ہوتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس حوالے سے عکاشہ اور اس کا ساتھی تم پر سبقت لے گئے ہیں ، لیکن اگر تم کہتے ہو تو میں کہہ دیتا ، اور اگر میں کہہ دیتا تو واجب ہو جاتی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی محمود بن بکر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی محمود بن بکر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 18698
وَعَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَجْلِسِ ، فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِلَى رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ يَمْشِي ، فَقَالَ : " أَيَا فُلَانُ " . قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَا يُنَازِعُهُ الْكَلَامَ إِلَّا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ لَهُ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " وَالْإِنْجِيلَ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : " وَالْقُرْآنَ ؟ " . قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ ، ثُمَّ نَاشَدَهُ : " هَلْ تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ ؟ " . قَالَ : نَجِدُ مَثَلَكَ ، وَمَثَلَ مَخْرَجِكَ ، وَمَثَلَ هَيْئَتِكَ ، فَكُنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ فِينَا ، فَلَمَّا خَرَجْتَ خِفْنَا أَنْ تَكُونَ أَنْتَ هُوَ ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا أَنْتَ لَسْتَ هُوَ . قَالَ : " وَلِمَ ذَاكَ ؟ " . قَالَ : مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ وَلَا عَذَابٌ ، وَإِنَّمَا مَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ . فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَأَنَا هُوَ ، وَإِنَّهُمْ لَأُمَّتِي ، وَإِنَّهُمْ لَأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم محفل میں موجود تھے ، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو مسجد میں چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ نے فرمایا : اے فلاں ! اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، اس نے اور کوئی بات نہیں کی ، صرف یہ کہا: یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم تورات پڑھے ہوئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : انجیل ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : قرآن ؟ اس نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر میں چاہوں تو اسے پڑھ سکتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کیا : کیا تم تورات اور انجیل میں میرا ذکر پاتے ہو ؟ اس نے کہا: آپ کی مانند کا اور آپ کی مانند کے نکلنے کا ، اور آپ کی مانند ہیئت کا ذکر پاتے ہیں ، ہمیں یہ امید تھی کہ وہ آخری نبی ہم میں سے ہوں گے ، لیکن جب آپ کا ظہور ہوا تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ وہ نہ ہوں ، جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی تو یہ بات سامنے آئی کہ آپ وہ نہیں ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اُس نے کہا: اُن ( آخری نبی ) کے ہمراہ ان کی امت کے ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے ، جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور جنہیں کوئی عذاب نہیں ہو گا ، اور آپ کے ساتھ تھوڑے سے لوگ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ میں ہی ہوں اور وہ لوگ میری امت ہوں گے ، اور وہ لوگ ستر ہزار اور مزید ( 10 ) ( 7 ) ہزار سے بھی زیادہ تعداد میں ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18699
وَعَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَكْوُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُبَارَكٌ أَبُو سُحَيْمٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت کے ستر ہزار لوگ حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہوں گئے جو داغ نہیں لگواتے ہوں گے ، داغ نہیں لگاتے ہوں گے ، جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہوں گے ، فال نہیں نکالتے ہوں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مبارک ابوسحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مبارک ابوسحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُمْا
حدیث نمبر: 18700
وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ قَالَ : صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أُنَاسٌ يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ يَأْذَنُ لَهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْغَضَ إِلَيْكُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ ؟ " . فَلَا تَرَى مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ فِي نَفْسِي بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَقَالَ : " أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ " وَكَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ ، ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سَلَكَ [ بِهِ فِي ] الْجَنَّةَ ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ " . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قُلْتُ : عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ يَسِيرٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رفاعہ بن عرابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آ رہے تھے ، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگنی شروع کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دینے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف والا درخت کا حصہ تم لوگوں کے نزدیک دوسرے حصے سے زیادہ ناپسندیدہ ہے ، راوی کہتے ہیں : تو سب لوگ رونے لگے ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب اس کے بعد جو شخص آپ سے اجازت مانگے گا ، میرے خیال میں وہ بیوقوف ہی ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گواہی دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب حلف اٹھاتے تھے ، تو آپ یہ فرماتے تھے : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، تم میں سے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اور پھر وہ ٹھیک رہے تو اس کی وجہ سے اسے جنت میں چلایا جائے گا ، اور میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو یوں جنت میں داخل کرے گا کہ ان سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور انہیں کوئی عذاب نہیں ہو گا اور مجھے یہ امید ہے کہ تم اس میں داخل نہیں ہو گے ، جب تک تم اور تمہاری ازواج اور اولاد میں سے نیک لوگ جنت میں اپنا ٹھکانہ نہیں بنا لیتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا معمولی سا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، طبرانی اور بزار کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، طبرانی اور بزار کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18701
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ مِنْ مَدِينَةٍ بِالشَّامِ يُقَالُ لَهَا : حِمْصُ تِسْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ ، مَا بَيْنَ الزَّيْتُونِ وَالْحَائِطِ وَالْبَرْتِ الْأَحْمَرِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” شام میں ایک شہر ہے جس کا نام ” حمص “ ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں سے نوے ہزار ایسے لوگوں کو زندہ کرے گا جن سے حساب نہیں لیا جائے گا ، اور وہ ( لوگ ) زیتون اور دیوار اور سرخ مٹی کے درمیان ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18702
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ فِي أَصْلَابِ أَصْلَابِ أَصْلَابِ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِي رِجَالًا وَنِسَاءً يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . ثُمَّ قَرَأَ : " وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بیشک میرے اصحاب سے تعلق رکھنے والے افراد کی اولاد کی اولاد کی اولاد میں ایسے مرد اور عورتیں ہوں گے جو جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اور ان میں سے بعد والے ، جو ان ( پہلے والوں ) سے نہیں ملے ، اور وہ ( پروردگار ) غلبے والا ، حکمت والا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18703
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةً يُدْخِلُ اللَّهُ الْجَنَّةَ مِنْهُمْ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت میں سے ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کرے گا ، جن میں سے ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر ( جنت میں داخل ہوں گے ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ،
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ،
یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 18704
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قَامَتْ ثُلَّةٌ مِنَ النَّاسِ يَسُدُّونَ الْأُفُقَ ، نُورُهُمْ كَالشَّمْسِ ، فَيُقَالُ : النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ ، فَيُقَالُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ، ثُمَّ تَقُومُ ثُلَّةٌ أُخْرَى تَسُدُّ مَا بَيْنَ الْأُفُقَيْنِ ، نُورُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ ، فَيُقَالُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ، ثُمَّ تَقُومُ ثُلَّةٌ أُخْرَى تَسُدُّ مَا بَيْنَ الْأُفُقِ ، نُورُهُمْ مِثْلُ كُلِّ كَوْكَبِ الشَّمْسِ ، فَيُقَالُ : النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ ، فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ [ فَيُقَالُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتَهُ ] ، ثُمَّ يَحْثِي حَثْيَتَيْنِ فَيُقَالُ : هَذَا لَكَ يَا مُحَمَّدُ ، وَهَذَا مِنِّي لَكَ يَا مُحَمَّدُ ، ثُمَّ يُوضَعُ الْمِيزَانُ وَيُؤْخَذُ فِي الْحِسَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگوں کا ایک گروہ کھڑا ہو گا ، وہ افق کو بھر دیں گے ، ان کا نور سورج کی مانند ہو گا ، تو کہا: جائے گا : اُمی نبی ، ہر نبی اس گروہ کے لئے حرکت کرے گا ، تو کہا: جائے گا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت ، پھر ایک اور گروہ کھڑا ہو گا ، جو دو افقوں کے درمیان کی جگہ کو بھر دے گا ، اُن کا نور چودہویں رات کے چاند کی مانند ہو گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نبی اس کے لئے حرکت کرے گا ، تو کہا: جائے گا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! اور ان کی امت ، پھر تیسرا گروہ کھڑا ہو گا ، جو افق کے درمیان کی جگہ کو بھر دے گا ، ان کا نور آسمان میں موجود ہر ستارے کی مانند ہو گا ، تو کہا: جائے گا : اُمی نبی ، ہر نبی اس کے لیے حرکت کرے گا ، تو کہا: جائے گا : سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت ، پھر وہ ( یعنی پروردگار ) دو لپ بنائے گا ( یعنی اُن کو بھرے گا ) اور یہ کہا: جائے گا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ تمہارے لیے ، اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) یہ میری طرف سے تمہارے لئے ہے ، پھر میزان رکھا جائے گا اور حساب شروع ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18705
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : تَخْرُجُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُلَّةٌ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ ، فَتَسُدُّ الْأُفُقَ ، نُورُهُمْ مِثْلُ نُورِ الشَّمْسِ ، فَيُنَادِي مُنَادٍ : النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ ، فَيَتَحَشْحَشُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ ، فَيُقَالُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ وَلَا عَذَابٌ ، ثُمَّ تَخْرُجُ ثُلَّةٌ أُخْرَى غُرًّا مُحَجَّلِينَ ، نُورُهُمْ مِثْلُ نُورِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، فَتَسُدُّ الْأُفُقَ ، فَيُنَادِي مُنَادٍ : النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ ، فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ ، فَيُقَالُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ، ثُمَّ تَخْرُجُ ثُلَّةٌ أُخْرَى [ غَرٌّ مُحَجَّلُونَ ] نُورُهُمْ مِثْلُ أَعْظَمِ كَوْكَبٍ فِي السَّمَاءِ ، يَسُدُّ الْأُفُقَ نُورُهُمْ ، فَيُنَادِي مُنَادٍ : النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ ، فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ ، فَيُقَالُ : مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ، ثُمَّ يَجِيءُ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - ثُمَّ يُوضَعُ الْمِيزَانُ وَالْحِسَابُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قیامت کے دن چمکدار پیشانی والے لوگوں کا ایک گروہ آئے گا اور وہ افق کو بھر دیں گے ، ان کا نور سورج کے نور کی مانند ہو گا ، ایک منادی پکار کر کہے گا : اُمی نبی ، تو ہر امی نبی اس کے لیے حرکت کرے گا ، تو کہا: جائے گا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت ، اور وہ لوگ کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ پھر ایک اور گروہ نکلے گا جو چمکدار پیشانیوں کا مالک ہو گا اور ان کا نور چودھویں رات کے چاند کے نور کی مانند ہو گا ، وہ افق کو بھر دیں گے ، ایک منادی پکار کر کہے گا : امی نبی ، تو ہر امی نبی اس کے لیے حرکت کرے گا ، تو کہا: جائے گا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت ، اور وہ لوگ کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ پھر ایک اور گروہ نکلے گا ، وہ چمکدار پیشانیوں کے مالک ہوں گے ، ان کا نور آسمان میں موجود سب سے بڑے ستارے کی مانند ہو گا ان کا نور افق کو بھر دے گا ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : امی نبی ، تو ہر امی نبی اس کے لیے حرکت کرے گا ، تو کہا: جائے گا : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت ، اور وہ لوگ کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ پھر تمہارا پروردگار آئے گا اور میزان رکھا جائے گا اور حساب ( شروع ہو گا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض افراد میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض افراد میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18706
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . إِلَى أَنْ قَالَ : فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ ، فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ : أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ لِلثَّانِي : " نَعَمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْحَرَشِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے سامنے مختلف اُمتوں کو پیش کیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” تو سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں ان میں سے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : کیا میں ان میں سے ہوں ؟ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں دوسرے فرد کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے الفاظ ہیں : جی ہاں !
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن موسیٰ حرشی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں دوسرے فرد کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے الفاظ ہیں : جی ہاں !
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن موسیٰ حرشی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18707
وَعَنْ أَنَسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زِدْنَا ، فَقَالَ : " وَهَكَذَا " . فَقَالَ عُمَرُ : يَا أَبَا بَكْرٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَدْخَلَهُمُ الْجَنَّةَ بِحَفْنَةٍ وَاحِدَةٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي أَبِي هِلَالٍ الرَّاسِبِيِّ قَلِيلٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت کے ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے مزید ( طلب ) کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اور اس طرح ہو گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سیدنا ابوبکر ! اگر اللہ تعالیٰ چاہے ، تو ایک ہی لپ کے ذریعے ان لوگوں کو جنت میں داخل کر سکتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اگرچہ ابوہلال راسبی نامی راوی میں تھوڑا سا ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اگرچہ ابوہلال راسبی نامی راوی میں تھوڑا سا ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18708
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، ثُمَّ يَشْفَعُ كُلُّ أَلْفٍ لِسَبْعِينَ أَلْفًا " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ طَوِيلٌ وَيَأْتِي فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ عَامِرِ بْنِ زَيْدٍ الْبَكَالِيِّ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور پھر ان میں سے ہر ایک ہزار ، ستر ہزار لوگوں کے لیے شفاعت کریں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو طویل روایت ہے اور آگے چل کر جنت کی صفت سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں عامر بن زید بکالی کے حوالے سے نقل کی ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس پر کوئی جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں عامر بن زید بکالی کے حوالے سے نقل کی ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس پر کوئی جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18709
وَعَنْ أَبِي سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَيَشْفَعُ كُلُّ أَلْفٍ لِسَبْعِينَ أَلْفًا ، ثُمَّ يَحْثِي رَبِّي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ بِكَفَّيْهِ " . قَالَ قَيْسٌ : فَقُلْتُ لِأَبِي سَعْدٍ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ بِأُذُنَيَّ ، وَوَعَاهُ قَلْبِي . وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : وَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَسْتَوْعِبُ مُهَاجِرِي أُمَّتِهِ ، وَيُوَفِّي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بَقِيَّتَهُ مِنْ أَعْرَابِنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَوْسَطِ : أَبُو سَعِيدٍ الْأَنْمَارِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعد انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بیشک میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور ہر ایک ہزار ، مزید ستر ہزار لوگوں کے لیے شفاعت کرے گا ، پھر میرے پروردگار کے دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر تین لپ ہوں گے ( یعنی اُن کو بھر کر وہ جہنم میں سے لوگوں کو نکالے گا ) ۔ “ قیس کہتے ہیں : میں نے سیدنا ابوسعد رضی اللہ عنہ دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی خود یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میرے کانوں نے یہ بات سنی ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے ۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے مہاجرین اس تعداد کو پورا کر دیں گے اور باقی بچ جانے والی تعداد کو اللہ تعالیٰ ہمارے دیہاتیوں کے ذریعے پورا کر دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ابوسعید انماری ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ابوسعید انماری ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18710
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : خُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُ رَجَّةَ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ : آيَةٌ ، وَنَحْنُ فِي فَارِعٍ يَوْمَئِذٍ ، فَخَرَجْتُ مُتَلَفِّعَةً بِقَطِيفَةٍ لِلزُّبَيْرِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ ، قُلْتُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : " وَقَدْ رَأَيْتُ خَمْسِينَ أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي مِثْلِ صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَنْزِلَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : مَنْ أَبِي ؟ فَقَالَ : " أَبُوكَ فُلَانٌ " . - لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ - . قُلْتُ : حَدِيثُ أَسْمَاءَ فِي الْكُسُوفِ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ : قَالَتْ : رَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ، وَالصَّدَقَةِ ، وَذِكْرِ اللَّهِ ، وَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكُمْ خَمْسِينَ أَلْفًا - أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا - يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا ، میں نے لوگوں کی آواز کی گونج سنی ، وہ کہہ رہے تھے : نشانی ( ظاہر ہوئی ہے ) ہم اس وقت ( مدینہ منورہ کے ایک قلعے ) ” فارع“ میں موجود تھے ، میں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی چادر کو لپیٹا اور نکل کھڑی ہوئی ، میں عائشہ کے پاس آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے پچاس ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر ہزار افراد کو دیکھا کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے ، تو چودہویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے ، ایک صاحب کھڑے ہوئے : انہوں نے عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے اللہ ! تو اس کو اُن میں شامل کر دے ( پھر آپ نے فرمایا : ) میرے منبر سے نیچے اترنے تک تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کرو گے ، میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا ، ایک شخص کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا : میرا باپ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا باپ فلاں ہے ، آپ نے اسی شخص کا ذکر کیا ، جس کی طرف اس کی نسبت کی جاتی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سورج گرہن کے بارے میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث ” صحیح“ اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک شخص سورج اور چاند ، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ دونوں کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، جب تم ان کو ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو نماز اور صدقہ اور اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ ، میں نے تم میں سے پچاس ہزار افراد ( رادی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر ہزار افراد کو دیکھا کہ وہ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک شخص سورج اور چاند ، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ دونوں کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، جب تم ان کو ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو نماز اور صدقہ اور اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ ، میں نے تم میں سے پچاس ہزار افراد ( رادی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر ہزار افراد کو دیکھا کہ وہ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 18711
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : لَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا لَا يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنِّي وَجَدْتُ رَبِّي مَاجِدًا كَرِيمًا ، أَعْطَانِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَ السَّبْعِينَ الْأَلْفِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ سَبْعِينَ أَلْفًا ، فَقُلْتُ : إِنَّ أُمَّتِي لَا تَبْلُغُ هَذَا أَوْ تُكْمِلُ هَذَا ، فَقَالَ : أُكْمِلُهُمْ لَكَ مِنَ الْأَعْرَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ ، وَاضْطَرَبَ فِي اسْمِ صَحَابِيِّهِ فَقِيلَ : عَمْرُو بْنُ عُمَيْرٍ ، وَقِيلَ : عُمَيْرُ بْنُ عَمْرٍو ، وَقِيلَ : عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَقِيلَ : عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ ، وَقِيلَ : عَمْرُو بْنُ بِلَالٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین دن تک ٹھہرے رہے ، آپ فرض نماز کے لئے تشریف نہیں لائے ، آپ سے اس بارے میں بات چیت کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار کو بزرگی والا ، کرم کرنے والا پایا ہے ، اس نے مجھے ستر ہزار لوگ ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، ان میں سے ہر ایک کے ہمراہ مزید ( 10 ) ( 7 ) ہزار لوگ عطا کیے ہیں ، میں نے عرض کی : میری امت اس تعداد تک نہیں پہنچے گی ، یا اس کو مکمل کر دے گی ؟ تو اس نے فرمایا : میں دیہاتیوں کے ذریعے تمہارے لئے ان کو مکمل کر دوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور اس روایت میں صحابی کے نام کے بارے میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے ، ایک قول کے مطابق ان کا نام سیدنا عمرو بن عمیر ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمیر بن عمرو ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمارہ بن عمیر ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمرو بن حزم ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمرو بن بلال ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور اس روایت میں صحابی کے نام کے بارے میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے ، ایک قول کے مطابق ان کا نام سیدنا عمرو بن عمیر ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمیر بن عمرو ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمارہ بن عمیر ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمرو بن حزم ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمرو بن بلال ہے ۔
حدیث نمبر: 18712
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُعْطِيتُ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، وَقُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَاسْتَزَدْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِينَ أَلْفًا " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ يَأْتِي عَلَى أَهْلِ الْقُرَى ، وَيُصِيبُ مِنْ حَافَّاتٍ الْبَوَادِي . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِمَا الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ وَتَابِعِيُّهُ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے ستر ہزار ایسے لوگ عطا کئے گئے ہیں جو حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، اُن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے اور ان کے دل ، ایک فرد کے دل کی مانند ہوں گے ، میں نے اپنے پروردگار سے مزید مانگا تو اس نے مجھے ہر ایک کے ہمراہ مزید ستر ہزار عطا کر دیے ۔ “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ چھوٹی بستیوں والوں اور ویرانوں میں بسنے والوں کو بھی شامل ہو گا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس کے تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس کے تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18713
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ رَبِّي أَعْطَانِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ ؟ قَالَ : " قَدِ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي مَعَ كُلِّ رَجُلٍ سَبْعِينَ أَلْفًا " . قَالَ عُمَرُ : فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ ؟ قَالَ : " قَدِ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي هَكَذَا " وَفَرَّجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بَيْنَ يَدَيْ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَبَسَطَ بَاعَيْهِ ، وَحَثَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَقَالَ هِشَامٌ : وَهَذَا مِنَ اللَّهِ ، لَا نَدْرِي مَا عَدَدُهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، [ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ] وَفِي أَسَانِيدِهِمُ الْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدٍ ، وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدٍ هَذَا هُوَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَيْدٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ ، وَأَنَّهُ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا سُلَيْمُ بْنُ عَمْرٍو النَّخَعِيُّ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، فَقَدْ رَوَى عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَبَاقِي إِسْنَادِهِ مُحْتَجٌّ بِهِمْ فِي الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پروردگار نے میری امت میں سے ستر ہزار ایسے لوگ مجھے عطا کیے ہیں ، جو حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مزید کی دعا کیوں نہیں کی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے مزید کی دعا کی ، تو اس نے مجھے ہر ایک فرد کے ہمراہ ستر ہزار لوگ عطا کر دیے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے مزید کے بارے میں دعا کیوں نہیں کی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اس سے مزید مانگا ، تو اس نے مجھے اس طرح عطا کیا ۔ یہاں عبداللہ بن ابوبکر نامی راوی نے اپنے آگے کشادگی کی ، اور عبداللہ نے یہ کہا: ہے : انہوں نے اپنے دونوں بازو پھیلا دیئے اور عبداللہ نے لپ بنایا ( یعنی دونوں ہتھیلیاں جوڑ لیں ) ہشام نے یہ کہا: ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کی تعداد کا پتہ نہیں چل سکتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، ان کی اسانید میں یہ بات مذکور ہے : یہ قاسم بن مہران کے حوالے سے موسیٰ بن عبید سے منقول ہے اور موسیٰ بن عبید نامی یہ راوی ، خالد بن عبداللہ بن اسید کا غلام ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الشقات میں کیا ہے اور قاسم بن مہران کا ذکر امام ذہبی نے ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ، اس کے حوالے سے صرف سلیم بن عمرو نخعی نے روایات نقل کی ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ، کیونکہ ہشام بن حسان نے اس سے یہ حدیث روایت کی ہے ، اس کی سند کے بقیہ رجال سے صحیح میں استدلال کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، ان کی اسانید میں یہ بات مذکور ہے : یہ قاسم بن مہران کے حوالے سے موسیٰ بن عبید سے منقول ہے اور موسیٰ بن عبید نامی یہ راوی ، خالد بن عبداللہ بن اسید کا غلام ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الشقات میں کیا ہے اور قاسم بن مہران کا ذکر امام ذہبی نے ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ، اس کے حوالے سے صرف سلیم بن عمرو نخعی نے روایات نقل کی ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ، کیونکہ ہشام بن حسان نے اس سے یہ حدیث روایت کی ہے ، اس کی سند کے بقیہ رجال سے صحیح میں استدلال کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 18714
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا وَقَفَ الْعِبَادُ لِلْحِسَابِ جَاءَ قَوْمٌ وَاضِعِي سُيُوفِهِمْ عَلَى رِقَابِهِمْ تَقْطُرُ دَمًا ، فَازْدَحَمُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَقِيلَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قِيلَ : الشُّهَدَاءُ كَانُوا أَحْيَاءً مُرْزَقِينَ ، ثُمَّ نَادَى مُنَادٍ : لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ فَلْيَدْخُلِ [ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ نَادَى الثَّالِثَةَ : لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ فَلْيَدْخُلِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : وَمَنْ ذَا الَّذِي أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ فَلْيَدْخُلِ ] الْجَنَّةَ ، فَقَامَ كَذَا وَكَذَا أَلْفًا فَدَخَلُوهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ يَسِيرٍ فِي بَعْضِهِمْ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ حُذَيْفَةَ وَغَيْرِهِ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْمَنَاقِبِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بندے حساب کے لئے کھڑے ہوں گے تو کچھ لوگ آئیں گے ، جنہوں نے اپنی گردنوں پر تلواریں رکھی ہوئی ہوں گی اُن کے خون کے قطرے گر رہے ہوں گے ، وہ جنت کے دروازے پر ہجوم کریں گے ، دریافت کیا جائے گا : یہ کون ہیں ؟ تو بتایا جائے گا : یہ شہداء ہیں ، جو زندہ تھے اور جنہیں رزق دیا جاتا تھا ، پھر ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : وہ شخص کھڑا ہو جائے ، جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جنت میں داخل ہو جائے ، پھر وہ تیسری مرتبہ پکار کر یہ کہے گا : وہ شخص کھڑا ہو جائے ، جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور وہ جنت میں داخل ہو جائے ، وہ کہے گا : جو کوئی بھی ایسا ہے جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہو ، وہ جنت میں داخل ہو جائے ، تو اتنے ہزار ہزار لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ حساب کے بغیر اس میں داخل ہو جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہوا اور دیگر حضرات کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے جو کتاب المناقب کے آخر میں ، اس امت کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہوا اور دیگر حضرات کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے جو کتاب المناقب کے آخر میں ، اس امت کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے ۔